انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 558 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 558

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۵۸ سورة المؤمنون آیت ۹۷ تا ۹۹ اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ وَقُلْ رَّبِّ اَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَتِ الشَّيْطِينِ وَ اَعُوذُ بِكَ رَبِّ و للهوووو أن يحضرون ® انبیاء علیہم السلام جہاں دنیا کی بھلائی کے لئے ان کی خیر خواہی کے لے ہر قسم کے اچھے کام کرتے ہیں وہاں ان پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو جھنجھوڑیں اور جگائیں اور کہیں کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک نہیں کہو گے تو وہ ناراض ہو جائے گا اور تمہیں اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی گھاٹے کا منہ دیکھنا پڑے گا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انذار ( موعظہ کے اندر ہی اندار کا پہلو بھی آتا ہے کیونکہ موعظہ اس نصیحت کو کہتے ہیں جس میں انذار ملا ہوا ہو) تو پہنچانا ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی منشاء ہے لیکن اچھے رنگ میں پہنچاؤ جس سے وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں اس سے نفرت اور فرار کے پہلو کو اختیار نہ کریں وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اور وہ ایک غلط رائے پر قائم ہیں اور غلط عقائد پر وہ کھڑے ہیں اس لئے تم جَادِلُهُم بِالَّتِي هِيَ اَحْسَنُ کی ہدایت پر عمل کرو۔جدال کے معنی رائے کو موڑ دینے کے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ جو اختلافات وہ تم سے رکھتے ہیں ان اختلافات کو دور کرنے کے لئے فساد کی راہیں نہیں بلکہ امن اور صلح کی راہوں کو اختیار کرو اور اس طرح پران کے خیالات کے دھارے کو موڑنے کی کوشش کرو۔جَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ اَحْسَنُ (النحل : ۱۲۶) سنے یا پڑھنے کے دماغ میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اخسن کیا ہے کیا اس اَحْسَنُ کی تلاش ہم نے خود کرنی ہے یا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کی طرف راہ نمائی فرمائی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (حم السجدۃ: ۳۴) کہ قول کے لحاظ سے احسن وہ ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے۔پس ہر وقت جو صحیح طریق پر دی گئی ہو اور جس کا مقصود یہ ہو کہ خدائے واحد و یگانہ کو دنیا پہنچاننے لگے وہ احسن قول ہے وہ قول جو شرک کی طرف لے جاتا ہے وہ قول جو بدعت کی طرف لے جاتا ہے وہ قول جو دہریت کی طرف لے جاتا ہے وہ قول جو فساد کی طرف لے جاتا ہے وہ قول جو باہمی جھگڑوں کی طرف لے جاتا ہے وہ قول احسن نہیں احسن قول وہی