انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 557
۵۵۷ سورة المؤمنون تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور انسان کو جس مقصد کے لئے اس زمین میں بسایا گیا ہے وہ مقصد حاصل نہ ہوتا اور اس طرح صالح معاشرہ کی بجائے ایک فاسد معاشرہ کی بنارکھی جاتی اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا ہے۔اسی غرض کے لئے اس نے حق کو اُتارا ہے اس لئے ہر وہ چیز جو اس غرض کے منافی ہے اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی اس لئے حق تمہاری خواہشات کی اتباع نہیں کرے گا۔یہ بڑا گہرا اور اہم مضمون ہے میں نے سوچا ہے کہ تمام بدعات کا سرچشمہ ہوائے نفس اور یہ اعلان ہے کہ آزادی ضمیر ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں غلط قسم کی آزادی ضمیر سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آزادی ضمیر تمہیں نہیں مل سکتی اور یہ فاسد آزادی ضمیر وہ ہے جب آزادی ضمیر کا نعرہ لگا کر انسان خدا کی مقرر کردہ حدود کو پھلانگتا اور ان سے باہر چلا جاتا ہے۔ہاں ان حدود کے اندر آزادی ضمیر ہے کسی کی طبیعت کسی نیکی کی طرف زیادہ مائل ہے ہر ایک اپنی فطرت کے مطابق خدا کی مقررہ حدود کے اندر رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں لگارہتا ہے اور اسی کے فضل سے وہ اس کی رضا کو حاصل بھی کر لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو حدود ہم نے قائم کی ہیں انہی میں تمہاری بزرگی اور عزت ہے تم آزادی کا اظہار رائے کی آزادی کا اور آزادی ضمیر کا نعرہ لگا کر اگر ہماری قائم کردہ حدود کو پھلانگ کر پرے چلے جاؤ گے تو اس کے نتیجہ میں تمہاری سر بلندی کے سامان پیدا نہیں ہوں گے تمہیں عزت نہیں ملے گی تمہارا رتبہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی اور بندوں کی نگاہ میں بھی بڑھے گا نہیں بلکہ گھٹ جائے گا کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی انگلی کو چھوڑ کر اپنے نفس پر بھروسہ رکھا فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمُ معْرِضُونَ (المومنون : ۷۲۔مگر انسان جب بہکتا ہے تو اس کی عجیب حالت ہوتی ہے خدا اپنا ہاتھ آگے کرتا ہے اور کہتا ہے اس ہاتھ کو پکڑ اور میری گود میں آبیٹھ اور وہ کہتا ہے نہیں میں تو اپنی مرضی چلاؤں گا اگر میری مرضی ہوگی تو تیری حدود کو توڑوں گا اور اس طرح وہ اس مقامِ عزت اور اس مقامِ احترام سے گر جاتا ہے جو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقر رکیا ہے۔اس آیت میں ہمیں اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ ہم حدود کی نگرانی کے لئے محافظ کھڑے کریں تا کہ خدا کی مخلوق کو خدا کی ناراضگی اور خدا کے قہر کے جہنم سے بچانے کی کوشش رسکیں۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۹۷ تا ۸۰۱)