انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 554
۵۵۴ سورة المؤمنون تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ہماری نیکیاں پہنچی ہیں یا نہیں پس وہ لوگ نیکیاں تو قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ہر آن اور ہر وقت بجالاتے رہتے ہیں لیکن تمام نیکیاں بجالانے کے بعد بھی ان کے دلوں میں یہ خوف رہتا ہے کہ جس کے سامنے جواب دہ ہیں ہم نا معلوم اس نے ہماری نیکیوں کو قبول بھی کیا ہے یا نہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن میں چار باتیں پائی جاتی ہیں وہ ہیں أُولَبِكَ يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ جن کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ہمارے اس حکم کی تعمیل کی کہ وَسَارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ ( آل عمران : ۱۳۴) اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے اندر مسابقت کی روح پیدا ہوسکتی ہے وہ جو اپنے رب کی خشیت کا احساس نہیں رکھتے وہ جو اپنے رب کی آیات عظیمہ ( قرآن کریم ) پر ایمان نہیں لاتے وہ جن کے دلوں میں شرک کی بار یک معصیت پائی جاتی ہے اور وہ جو جب نیکی کرتے ہیں تکبر سے کام لیتے ہیں سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایسے کام کئے ہیں کہ اب ہمارا رب مجبور ہے کہ ہماری ان باتوں کو قبول کرے اور ہمیں بہتر جزا دے وہ لوگ مسابقت فی الخیرات اور يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْراتِ کے مصداق نہیں ہوا کرتے نہ ان میں مُسَابَقَت فِي الْخَيْرَات پائی جاتی ہے نہ وہ جلدی جلدی نیکیوں کی طرف متوجہ ہونے والے اور حرکت کرنے والے ہوتے ہیں۔اس واسطے وہ لوگ جو صرف ہمارے دنیوی احسانوں کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انہوں نے سَارِعُوا إلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمُ پر عمل کیا اور يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سِبِقُونَ کے گروہ میں شامل ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو انہوں نے حاصل کیا حالانکہ ان کے اندر یہ چار خوبیاں پائی نہیں جاتیں۔وہ غلطی پر ہیں لا يَشْعُرُونَ مومنون میں روح مسابقت کا پایا جانا ضروری ہے۔یہ افراد میں بھی ہوتی ہے اور جماعتوں میں بھی اور سب سے زیادہ اس کی طرف مرکز کومتوجہ ہونا چاہیے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۲ تا ۸۵) اس دنیا میں مال و دولت ان لوگوں کو بھی دی جاتی ہے جن سے ہمارا رب ناراض ہوتا ہے اور انہیں بھی دی جاتی ہے جن پر ہمارے رب کی رحمتیں نازل ہو رہی ہوتی ہیں۔یہ آیات جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے ان میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ کسی آدمی کو مال و دولت کامل جانا یا اس کے پاس مال و دولت کی فراوانی یا اس کی نسل میں برکت کا پایا جانا یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ