انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 550 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 550

۵۵۰ سورة المؤمنون تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث اس وقت حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ہستی کا ایک بہترین نمونہ، اُسوہ ہمارے سامنے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شکل میں آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے الہاما آپ کو کہا انتَ الشَّيحُ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتُه کہ تیرا وقت (اور تیرے میں وہ تمام اوقات شامل ہیں جن کا تعلق آپ کی جماعت کے ساتھ ہے ) ضائع نہیں کیا جائے گا، ضائع نہیں ہوگا اس کے دو معنی ہیں۔تیرے ماننے والے اچھے اخلاق کے حامل ہوں گے اور کوئی ایسے عمل نہیں کریں گے نہ کوئی ایسی باتیں کریں گے جو بے فائدہ اور بے مقصد ہوں اور وقت کا ضیاع ان سے ہورہا ہو اور یہ بشارت دی کہ خدا تعالیٰ کے منشا اور اس کے احکام کی روشنی میں تیرے ماننے والے خدا تعالیٰ کے حضور جو اعمال پیش کر رہے ہوں گے ان کا نتیجہ نکلے گا اور وہ ضائع نہیں ہوں گے۔اچھا خُلق جو ہے وہ ابدی زندگی پاتا ہے۔جو گندی باتیں قبیح اعمال ہیں وہ جلد ضائع ہو جاتے اور مرجاتے ہیں۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ کہا ، اب بھی وہی مثال دیتا ہوں۔انسانی تاریخ میں کہیں بھی آخری فتح نفرت اور حقارت کو نہیں ہوئی۔آخری فتح ہمیشہ محبت اور پیار کو ملی ہے۔نفرت، آنا اور حقارت سے پیش آنا ، یہ سارے گند ہیں جو لغو کے اندر شامل ہو جاتے ہیں یعنی جن کا کوئی ایسا نتیجہ نہیں نکلتا جو نتیجہ انسانی زندگی میں، اس دنیا میں بھی اور اخروی زندگی کے ساتھ تعلق رکھنے والا بھی اللہ تعالیٰ نکالنا چاہتا ہے۔نہ کرنا۔نہ کرنے والی باتوں میں جو لغو کی بنیاد سے اٹھیں پھر بہت سی باتیں ہیں ان میں ایک ہے تجسس اللہ تعالیٰ نے فرمایا لا تَجَسَّسُوا (الحجرات: ۱۳) عیب جوئی نہیں کرنا، دوسروں کے عیب تلاش نہیں کرنا۔اپنی فکر کرو۔اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے رہو۔محاسبہ تو ہر وقت خدا تعالیٰ سے عشق رکھنے والا انسان کرتا رہتا ہے کہ اگر کوئی چھوٹی یا بڑی غلطی سرزد ہو جائے ، ہو چکی ہو، تو تو بہ کرے اور خدا تعالیٰ سے معافی مانگے تو بہ کی بنیاد محاسبہ پر ہی ہے۔اگر کسی نے محاسبہ نہیں کیا تو حقیقی تو بہ بھی اس کے نصیب میں نہیں ہوسکتی۔دوسروں میں عیب تلاش کرنا، اپنا وقت ضائع کرنا اور خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔اس حد تک اس پر زوردیا کہ فرمایا جب ہم کہتے ہیں لا تجسسوا تو ہماری مراد یہ ہے کہ جب کوئی شخص ایمان کے