انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 541
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۴۱ سورة الحج خدا تعالیٰ کی مخلوق سے بھلائی کا سلوک کرو۔دوسری جگہ فرمایا تھا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : 1) تم خیر امت اس لئے ہو کہ لوگوں کی خیر کے لئے تمہیں قائم کیا گیا ہے۔اگر تم حقوق اللہ کو ادا کرو گے اور حقوق العباد کو بھی اپنی طاقت کے مطابق ادا کرو گے لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تو تم ایسی فلاح اور کامیابی کا حاصل کرو گے جو تمہاری زندگی کا آخری مقصد ہے۔آخری آیت میں پھر فرمایا وَ جَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ یہ جہاد جس کا اسلام حکم دیتا ہے یہ تین شقوں پر مشتمل ہے۔ایک جہاد ہے جس کا تعلق خود انسان کے اپنے نفس کے ساتھ ہے کہ وہ انتہائی کوشش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو قو تیں اور صلاحیتیں عطا کی ہیں ان کو الہی منشاء کے مطابق اور قرآن کریم کے احکام کے نیچے چلتے ہوئے کمال نشو ونما تک پہنچائے۔یہی نیکی ہے حقیقتا۔جو بہترین نیکی کی تعریف قرآن کریم میں مجھے نظر آئی ، ہو سکتا ہے کہ کسی اور کو کوئی اور نظر آ جائے بہر حال جو مجھے نظر آئی وہ یہی ہے کہ جو قوت اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو دی ہے اسے الہی منشاء کے مطابق نشو ونما دینا اور استعمال کرنا، یہ نیکی ہے۔خدا تعالیٰ نے مثلاً جسمانی طاقتیں دیں۔نیکی یہ ہے کہ جسمانی طاقتوں کی نشو ونما، اللہ تعالیٰ کے احکام کے ماتحت کی جائے۔اب یورپین اقوام اپنی جسمانی طاقتوں کی نشوونما کے لئے سور کا گوشت اور اس کی چربی استعمال کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف وہ ایسا کرتے ہیں اور خود ان کے محققین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ جسمانی طور پر وہ نقصان اٹھاتے ہیں اور یہ نقصان دو قسم کے ہیں۔ایک ایسا نقصان جو ہر سور کھانے والے کو نہیں پہنچتا لیکن امکان ہے کہ ہرسؤر کھانے والے کو نقصان پہنچ جائے لیکن بعض کو پہنچ جاتا ہے۔ایک خاص بیماری ہے بڑی خطرناک قسم کی جو سور کے گوشت کے کھانے سے انسان میں پیدا ہوتی ہے اور ایک نقصان یہ ہے کہ جو ساروں ہی کو پہنچتا ہے اور وہ یہ کہ غذائیت پر خود ان لوگوں نے جو ریسرچ کی تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ غذا ئیں انسان کے اخلاق پر اثر انداز ہوتی ہیں۔سور کا گوشت یا اس کی چربی کھانے سے بداخلاقی پیدا ہوتی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ صرف سور کا گوشت اور اس کی چربی کھانے سے بداخلاقی پیدا ہوتی ہے کیونکہ یورپ میں اور اسلام