انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 539
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث سے وہ بزرگی چھین لی گئی۔۵۳۹ سورة الحج خطابات ناصر جلد صفحه ۲۴۱،۲۴۰) تو دیکھو کتنا تذلل کا زمانہ آیا بعض دفعہ اپنی تاریخ کو پڑھ کر رونا آتا ہے کہ کوئی ایسی ذلت نہیں جو ہمارے تصور میں آسکے اور وہ مسلمانوں کو سہنی نہ پڑی ہو سب کچھ چھن گیا۔دنیا کی عزت چھن گئی اور روحانی نعمتیں بھی چھینی گئیں اللہ تعالیٰ اب آپ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میں نے آسمان پر اسلام کے غلبہ کا فیصلہ کیا اور اس غلبہ کے لئے تمہیں اے جماعت احمد یہ ایک برگزیدہ مقام عطا کیا ہے کہ تمہیں اس جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا ہوئی۔یہ بزرگی جو تمہیں دی گئی ہے یہ تم پر ایک فرض عائد کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ تم خدا اور اس کے دین کی راہ میں اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں اور استعدادوں اور اموال اور عزتوں کو خرچ کر دو۔پس وَجَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِہ پر عمل کرو تا کہ تمہاری یہ بزرگی قائم رہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفات اپنے بندوں اور اپنی مخلوق پر احسان پر احسان کئے جا رہی ہیں۔کوئی لحظہ ایسا نہیں کہ مخلوق پر اس کے رب کا احسان جاری نہ ہو اسی طرح جب اس کا بندہ ، اس کا بندہ بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق اس کی زندگی میں اس طرح صفات باری کے جلوے دیکھتی ہے جس طرح کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب میں دیکھتی ہے اور اس وقت ہی انسان اس حکم کو صحیح طور پر بجالا سکتا ہے کہ وافَعَلُوا الخَيْرَ نیکیاں اور بھلائی اور احسان کرتے چلے جاؤ۔انسان کی زندگی اللہ تعالیٰ کی صفات کے پر تو کے نیچے اسی کے فضل سے اس کی مخلوق کے لئے بھلائی ہی بھلائی بن کر رہ جائے یہ نقشہ ہے جو اس چھوٹی سی آیت میں کھینچا گیا ہے اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ عبودیت تامہ کے حصول کے دوطریقوں اور عبودیت تامہ کے نتیجہ میں کس طرح ایک خیر اور بھلائی اور نیکی اور حسن سلوک اور احسان عظیم کا ایک عظیم دریا بہتا ہے اور اس کے ساتھ اگلی آیت وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِ میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس مقام کے حصول کے لئے محض محبت کافی نہیں بلکہ اس انتہائی محبت کی ضرورت ہے جو جہاد کے حق کو اور کوشش اور سعی کے حق کو پورا کرنے والی ہوا اور محض اطاعت کافی نہیں بلکہ ایسی اطاعت کی ضرورت ہے جو اطاعت کا حق ادا کرنے والی ہو اور محض خیر پہنچانا ہی کافی نہیں بلکہ انتہائی طور پر خیر پہنچانے کی ضرورت ہے جس پر حق جِهَادِہ صادق آئے۔اور اس اگلی آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم میری راہ میں عبودیت تامہ کے حصول