انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 538
۵۳۸ سورة الحج تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث کسر اُٹھا نہیں رکھنی چاہئے تا کہ ہماری زندگی کا مقصد ہمیں حاصل ہو جائے وہ کامیابی ہمیں مل جائے جو ہمارے مقدر میں ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے پیار کا سلوک ہم سے ہونے لگے اور اس کی رضا کی نگاہ ہم پر پڑنے لگے اور اس کا ایسا پیار ہمیں نصیب ہو کہ جس کے بعد انسان کسی اور چیز کی ضرورت اور احتیاج محسوس نہیں کرتا۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔آمین خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۹۷۷ تا ۹۸۴) ہمارے اندر اس مجاہدہ اور اس جہاد کی صفت ہونی چاہئے کہ جو کام کرنا ہے اس کو جہاں تک ہماری طاقت اور استعداد کا تعلق ہے انتہا تک پہنچا دینا ہے راستہ میں نہیں چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَ جَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبكُمُ الله تعالیٰ ان آیات میں یہ فرماتا ہے کہ الہی احکام کی تعمیل میں اپنی گردنیں جھکا دو وَاعْبُدُوا اور کمال ادب اور کمال نیستی اور تذلل اختیار کر کے عبادت میں لگ جاؤ وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ قرآن کریم کے بتائے ہوئے سارے ہی احکام پر عمل کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔عام معمولی کام نہیں کرنے بلکہ آگے فرما یا وَ جَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَلكم اس نے تمہیں امتِ مسلمہ بنا کر ایک برگزیدہ مقام عطا کیا ہے اس لئے ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ چونکہ ہم نے تمہیں مجتبی بنایا ہے۔برگزیدہ جماعت بنایا ہے۔وَجَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کرو ورنہ یہ بزرگی تم سے واپس لے لی جائے گی اور ایک وہ قوم کھڑی کی جائے گی جو اسلام کو دنیا میں غالب کرے گی۔غرض اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑا احسان اپنا یاد دلایا اور پھر ایک یہ مطالبہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے احسان یاد دلایا کہ دیکھو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور بعد میں آنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک برگزیدہ جماعت قرار دیا تھا اور حقیقی معنی میں امت مسلمہ انہیں ٹھہرایا تھا۔انہوں نے خدا تعالیٰ کے اس پیار کے نتیجہ میں اس کی راہ میں اپنی ساری کوششوں اور طاقتوں کو خرچ کر دیا اور جہاد کا حق ادا کر دیا پھر بعض لوگوں کی غفلت اور کوتاہیوں کے نتیجہ میں لیکن امت مسلمہ شروع سے لے کر قیامت تک جو ہے اس میں سے بعض کے الفاظ میں بول سکتا ہوں۔ویسے تو نہیں بہر حال انہوں نے اس احسان کو یاد نہیں رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں برگزیدہ بنایا ہے اور اس اجتباء کے نتیجہ میں جو ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے وہ انہیں ادا کرنی چاہئے پس ان