انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 537
۵۳۷ سورة الحج تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث حسن جس طرح میرے وجود میں ایک تو نور کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے اس طرح وہ میرے وجود میں احسان کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے۔جب تو میرا کامل بندہ بن جائے گا اور میری صفات کا رنگ تجھ پر چڑھ جائے گا تو پھر یہ دونوں چیزیں تیرے اندر پیدا ہو جائیں گی۔میرے حسن کا نور بھی تیرے وجود میں پیدا ہو جائے گا اور میرے احسان کے جلوے بھی تیرے وجود میں میری مخلوق مشاہدہ کرے گی تو اس قابل ہو جائے گا کہ وَافْعَلُوا الخَیر کے الفاظ میں میرا یہ حکم سن کر خیر اور بھلائی کے کام کرنے لگ جائے کیونکہ اس کے عمل پیرا رہنے کی تجھ میں طاقت ہوگی۔پس جس وقت انسان اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے اور عبودیت تامہ اُسے حاصل ہو جاتی ہے تو وہ گو یا اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اخلاق کے مطابق اس کے اخلاق بن جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا پر تو اس کی زندگی کے ہر زاویہ اور ہر شعبہ پر پڑتا ہے۔پس انسان کے کامل عبد بن جانے کی صورت میں جہاں دنیا اُس کے وجود میں حسن باری تعالیٰ کے جلوے دیکھتی ہے وہاں دنیا اس کے وجود میں اللہ تعالیٰ کے احسان کے جلوے بھی دیکھتی ہے اور یہ کامل عبد جو اللہ تعالیٰ کا ہم رنگ بن گیا یہی وہ انسان ہے جس نے وہ حقیقی اور انتہائی کامیابی حاصل کی اور فلاح پائی جس سے بڑھ کر کسی انسان کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کامیابی اور اس فلاح کی صورت میں انسان کو اللہ تعالیٰ کے پیار اور اس کی رضا کا ابدی سرور حاصل ہوا۔ایک ایسی لذت نصیب ہوئی جس کے مقابلے میں دنیا جہاں کی لذتیں بالکل بیچ ہیں۔پس انسان کو اللہ تعالیٰ کا سچا بندہ اور حقیقی عبد بننے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔حقیقی عبد بنے کی راہیں بتا دی گئی ہیں اور ان پر چل کر جو نتائج پیدا ہوتے ہیں ان کو بھی بیان کر دیا گیا ہے اور وہ یہی ہیں کہ جب انسان ان راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بن جاتا ہے تو پھر وہ ان کامیابیوں اور فلاح سے ہمکنار ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقدر کی ہیں مگر وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے حقیقی بندے نہیں بنتے وہ بڑے ہی بد قسمت ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ میرے قریب آنے کی بجائے مجھ سے دور چلے جاتے ہیں اور اس طرح فلاح اور کامیابی میں میرے پیار اور رضا کی لذت اور سرور کو پاہی نہیں سکتے۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بنے کی کوشش کرنی چاہئے۔عبودیت تامہ کے حصول کے لئے کوئی