انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 536 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 536

۵۳۶ سورة الحج تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث چیزوں میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے جلوے ہی جلوے نظر آتے ہیں اور پھر یہ سارے جلوے انسان کے کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے ماتحت بغیر استحقاق حق کے نظر آ رہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ جو صفت حسنہ بیان فرمائی ہے جس وقت اس حسین اور خوبصورت صفت کے جلوے انسان پر ظاہر ہونے لگتے ہیں تو وہ احسان بن جاتے ہیں۔وہی حسن جو ہے وہ احسان کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تم عاجزی، انتہائی عاجزی اور کامل اتباع کو اختیار کر کے حقیقی معنوں میں میراحسن اپنی زندگیوں میں پیدا کر لو گے تو پھر میری طرف سے تمہارے اندر یہ طاقت بھی ودیعت کر دی جائے گی کہ جس طرح تم میرے حسن کو میرے فضل اور میرے رحم سے اپنی زندگی میں سمیٹے ہوئے ہو گے اسی طرح میرے احسان کے جلوے بھی تمہارے اندر سے پھوٹ پھوٹ کر نکلنے لگیں گے۔پھر تم وافعَلُوا الْخَيْرَ اس قابل ہو جاؤ گے کہ تم خیر اور بھلائی کی باتیں کرو یعنی پھر تم اس بات کے قابل ہو جاؤ گے کہ تم اپنے نفسوں پر اور اپنے بھائیوں پر یا خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوق پر احسان کرو۔اپنے نفس کے حقوق بھی ادا کرنے والے اور اپنے بھائیوں کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہو جاؤ اور اسی طرح بنی نوع انسان کے حقوق کو بھی ادا کر نے لگ جاؤ اور پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری مخلوق کے جو حقوق قائم کئے ہیں ان کی ادائیگی میں بھی کوشاں رہو۔پس مذکورہ آیت میں جو مرکزی نکتہ بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے انسان! میں نے تجھے عبادت تامہ کے لئے پیدا کیا ہے پس کامل عبد بننے کی کوشش کر اور تو خود اپنی کوشش سے اس راہ کو پا نہیں سکتا جس کا کامل عبد بننے کے لئے حاصل کرناضروری ہے اس لئے ہم دومتوازن را ہیں تجھے بتا دیتے ہیں۔ایک فنا کی راہ ہے اور دوسری اطاعت کی راہ ہے۔ایک وہ راہ ہے جس کے نتیجہ میں توحید خالص پر تو قائم ہو جائے گا اور دوسری وہ راہ ہے جس کے نتیجہ میں توحید خالص پر قائم ہو کر توحید خالص کے تقاضوں کو تو پورا کرنے لگے گا یعنی اپنے رب کی اتباع اور اطاعت میں لگا رہے گا اور جس وقت تو میرا کامل بندہ بن جائے گا تو پھر تو اس قابل ہو جائے گا اور اپنے اندر یہ طاقت رکھے گا اور یہ استعداد تجھ میں پیدا ہو جائے گی کہ میں تجھے یہ حکم دے سکوں وَافْعَلُوا الْخَيْرَ یعنی دوسرے بندوں کے ساتھ یا دوسری مخلوق کے ساتھ یا خود اپنے نفس کے ساتھ خیر یعنی بھلائی کا معاملہ کرے کیونکہ میرا