انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 535
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۳۵ سورة الحج پر غور کرتے ہیں تو اُن میں حسن ہی حسن نظر آتا ہے اسی کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نور کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام جہانوں کا نور ہے اور یہ اس کا حسن ہے اور جب اس کا یہ حسن یعنی اس کی صفات حسنہ عملاً مخلوق میں جلوہ افگن ہوتی ہیں تو یہی صفات احسان کا رنگ رکھتی ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ کا رحمن ہونا ہے یہ اس کی بطور صفت کے ایک نہایت ہی حسین صفت ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے اندر یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ بغیر استحقاق کے احسان کرتا چلا جاتا ہے۔یہ اس کی بطور صفت کے ایک نہایت ہی حسین صفت ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے اندر یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ بغیر استحقاق کے احسان کرتا چلا جاتا ہے وہ اپنی مخلوق پر رحمت کی بارش برساتا ہے جب کہ اس کے کسی عمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ابھی کسی بدلے یا جزاء کا بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس یہ فی ذاتہ ایک انتہائی حسین خوبی ہے اور ایک بڑی ہی حسین صفت ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا معاملہ اس کی مخلوق سے ہونے لگتا ہے تو اس کے احسان ہی احسان نظر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے زید کو، بکر کو، مجھے اور آپ کو وہ نعمتیں عطا کی ہیں کہ جن کا استحقاق ہم نے اپنی کسی تدبیر یا عمل یا دعا سے پیدا نہیں کیا تھا۔ابھی ہم پیدا ہی نہیں ہوئے تھے لیکن ابھی بچہ پیدا نہیں ہوتا کہ ماں کی چھاتیوں میں اس کے لئے دودھ پیدا کر دیا جاتا ہے۔ابھی انسان اس دنیا میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا کہ اس زمین یا اس الارض میں ایسی متوازن غذا ئیں پیدا کر دی گئی تھیں جو انسانی جسم کی ساخت کے بالکل موافق اور اس کی ضرورتوں کے مطابق تھیں۔یعنی جس قسم کی کسی کو ضرورت ہو سکتی تھی اس کے مطابق مختلف اور مناسب حال غذا ئیں پہلے سے پیدا کر دی گئیں۔یہ نہیں کہ پہلے تو اس نے انسان کو پیدا کر دیا ہو اور بعد میں اس کی غذاؤں وغیرہ کا خیال رکھا ہو اور یہ عمل تو شاید ہزاروں لاکھوں سال سے پہلے شروع ہو گیا تھا۔پس وہ مخلوق خدا جو اس لئے پیدا کی جانی تھی کہ وہ اپنے رب سے ایک حقیقی اور زندہ اور اپنے اختیار سے ( یعنی اختیار کے رنگ میں باقی تو ہر مخلوق کا تعلق اپنے رب سے ہی ہے لیکن اختیار رکھتے ہوئے اثر رکھتے ہوئے علی وجہ البصیرت قربانیاں دیتے ہوئے ) وہ اپنے رب سے تعلق پیدا کرنے والی مخلوق ہوگی۔پس جس وقت وہ اس دنیا میں پیدا ہوتو وہ بھوکی نہ مرے۔چنانچہ غذاؤں کے علاوہ پانی کا انتظام پانی کی صفائی کا انتظام پانی کو جراثیم سے پاک رکھنے کا انتظام اور پھر اس کو مختلف جگہوں پر پہنچانے کا انتظام غرض پانی کی فراہمی کے سلسلہ میں ہزار قسم کے انتظام کئے اور نہ صرف کھانے پینے کی چیزوں میں بلکہ دوسری تمام