انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 46 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 46

سورة المائدة تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس واسطے جو مرضی وہ کہتے ہیں، کرتے رہیں۔عزت تو تیرے ہی نصیب میں ہے۔دنیا کا سب سے معزز انسان (جب سے انسان پیدا ہوا اور جب تک انسان اس دنیا میں رہے گا ) تو ہے۔تیرے طفیل پہلوں نے بھی عزت پائی اور بعد میں آنے والے بھی تیرے ہی طفیل عربات حاصل کریں گے۔تمہیں اب سر چشمہ عزت بنا دیا گیا ہے تو چونکہ تیرے طفیل ہی سب کو عزت ملی ہے اس واسطے ان کے قول ان کے منہ کی باتیں بے نتیجہ ہیں، بے اثر ہیں۔عزت کا مالک تو تو ہی ہوگا۔لا تَحْزَنُ غم کرنے کی ضرورت نہیں۔تیرے طفیل اسلام ہمیشہ معزز رہے گا۔اسلام ہمیشہ ملائکہ کی بشارتیں حاصل کرتا رہے گا اور اسلام اور اُمت مسلمہ ہمیشہ اعلیٰ رہے گی اور خدا تعالیٰ ہمیشہ متقیوں کے ساتھ رہے گا۔ان متقیوں کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت قرآنی پر عمل کرنے والے ہیں۔اس واسطے لا تحزن اے رسول! تجھے ان اندرونی دشمنوں کی یہ حرکتیں اور یہ منصوبے جو وہ کر رہے ہیں جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے اس خیال میں نہ ڈالیں کہ وہ کامیاب اور تو نا کام ہو جائے گا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو یقین اور پختگی کے ساتھ اس حقیقت پر قائم تھے لیکن آیات قرآنی میں جن کے مخاطب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں اس قسم کا مضمون اگر بیان ہو تو ہم لوگوں کو سبق دینے کیلئے یہ اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔اس آیہ کریمہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس طرح اس قسم کی ایک چھوٹی سی جماعت پائی جاتی تھی بعد میں آنے والوں میں بھی اس قسم کی جماعت پائی جائے گی۔اس قسم کے لوگ ہوں گے جو ایمان کا دعوی کریں گے جو مصلح ہونے کا نعرہ لگائیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ يُسَارِعُونَ فِي الكفر فتنہ فساد اور فسق اور فجور کی باتیں سننے کی طرف دوڑیں گے اور ایسی باتوں کو پھیلائیں گے اور بداعمالیوں میں وہ زندگی کے دن گزار رہے ہوں گے۔جماعت مومنین میں بھی فتنہ و فساد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور ان کے مفسدانہ تعلقات بھی غیر مسلموں کے ساتھ ہوں گے، یہودی ہوں ، عیسائی ہوں، آتش پرست ہوں، دہر یہ ہوں، بد مذہب ہوں جو بد نیتی کے ساتھ اور شرارت کے ساتھ مسلمانوں سے تعلق قائم کریں گے اور غلط باتیں ایسے لوگوں سے سن کے ، جھوٹی باتیں ایسے لوگوں سے سن کے یہ کہہ کے پھیلائیں گے کہ بڑے بزرگ مسلمانوں نے یوں کہا اور یوں کہا یا سچی باتوں کو بدل کے اور ان میں تحریف کر کے پھیلائیں گے تا کہ اسلام پر اعتراض کرنا بعض