انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 529 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 529

۵۲۹ سورة الحج تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کی شان ظاہر ہوئی کہ عمر بھر کے جو ویری اور دشمن تھے ان کو لا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کا نعرہ لگا کر خدا تعالیٰ کی رحمت کی جنتوں کی طرف دھکیل دیا۔جو لوگ اسلام کے دشمن تھے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تھے اور مسلمانوں کے دشمن تھے ان کے کانوں میں جب اس نعرہ کی آواز آئی تو وہ جا کر اسلام لے آئے اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث بن گئے۔پس حقیقت یہی ہے کہ مولا بس۔اور آج کی دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ایک ایسی جماعت ہے جو یہ کہتی ہے کہ ہم بھی ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ہماری زندگی بھی اسی بنیاد پر استوار ہے کہ مولا بس۔ہماری روح کی بھی یہی آواز ہے۔خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ سے اتنا پیار کرتا ہے کہ سوائے اس گروہ کے انہوں نے بہت قربانیاں دیں۔ان کے ساتھ تو ہم مقابلہ نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے بڑا مقام حاصل کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اور آپ سے تربیت حاصل کر کے۔لیکن وعدہ دیا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی صحبت اور روحانی تربیت جو ہے وہ بہت بڑے پیمانے پر اور ایک شان کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تربیت اور آپ کے روحانی فیوض کے نتیجہ میں اس جماعت کو بھی ملے گی جو جماعت مہدی پر ایمان لائے گی اور ليظهرة عَلَى الدِّينِ كُله (الصف:۱۰) میں جو وعدہ دیا گیا تھا پیار کے ساتھ اور اسلامی تعلیم کے حسن کے نتیجہ میں ساری دنیا کے دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رب کریم کے لئے جیتے جائیں گے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۷۱، ۷۲) آیت ۴۷ اَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بها أوْ أَذَانَ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَ لكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ فرمایا کہ آنکھوں کی بصارت کا ذکر ہم نہیں کرتے۔وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ (الحج : ۴۷) جو دلوں میں قلوب ہیں یعنی Mind اور وہ عقل کا سر چشمہ اور علم کا جو ہے وہ اندھا ہو جاتا ہے اور اس میں امام راغب کہتے ہیں عقل کی طرف اور علم کی طرف اشارہ ہے اور اندھا پن بھی ہے یعنی جو عقل اندھی بھی ہوتی ہے۔ہمارے اردو میں بھی محاورہ آ گیا ہے اور عقل بہری بھی ہوتی ہے یعنی جو