انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 519
۵۱۹ سورة الانبياء تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم الانبیاء اور افضل الرسل ہیں، اتنی ہی بڑی ذمہ واریاں بھی ان پر ڈالی جاتی ہیں اور اتنا ہی یہ احساس بھی پیدا کیا جاتا ہے کہ انسان اپنے نفس میں اور اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور اس کے اندر کوئی زور نہیں اور نہ کوئی طاقت ہے کہ وہ خدائی امداد اور نصرت کے بغیر اپنے زور سے قربانیاں کر کے ان وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے۔انسان کو تو یہ کہا گیا ہے کہ جتنی تجھ میں طاقت ہے وہ کر دے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتا ہے، اس کی۔نصرت اور اس کی امداد سے ہوتا ہے۔پس اس زمانہ میں یہ وعدہ ہے کہ نوع انسانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو کر عملاً انسان کے سامنے یہ تصویر پیش کرے گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ ہیں۔اعتقاداً نہیں بلکہ عملاً یہ تصویر پیش کرے گی کیونکہ الا ماشاء اللہ چند ایک استثناؤں کے علاوہ ساری دنیا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا اور آپ پر ایمان لا کر آپ کے روحانی فیوض سے حصہ لیا۔یہ دعاؤں کے نتیجہ میں ہوگا اور اس دعا کے نتیجہ میں جو اس دل سے نکلی تھی جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلَا يَكُونُوا مُؤْمِنينَ (الشعراء: ۴) اور دنیا کے سامنے عملاً یہ نقشہ آ جائے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک قوم کسی ایک علاقے کسی ایک ملک یا کسی ایک نسل کے لئے رسول نہیں ہیں بلکہ گافة للناس کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور یہ عملاً ثابت ہو جائے گا کیونکہ انسانوں کی بھاری اکثریت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آئے گی اور خدا تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو جائے گا۔گو وہ اس شکل میں بیان نہیں ہوالیکن وہ اپنے معنی کے لحاظ سے اس میں بیان ہو چکا ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے ان دونوں آیتوں کے بعد آگے ایک وعدے کا ذکر ہے اور پھر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ وہ وعدہ کب پورا ہوگا اور پھر ایک جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ چودھویں صدی میں اس وعدے کے پورا ہونے کا زمانہ آ جائے گا۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۳۵۷ تا ۳۶۱) قرآن کریم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے۔قرآن کریم نے یہ بھی کہا کہ محبوب خدا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ہیں۔چنانچہ سورۃ انبیاء میں فرمایا وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً للعلمین۔گویا صفت ربوبیت کے مظہر اتم ہونے کا جلوہ رحمتہ للعالمین کی شکل میں ظاہر ہوا۔آپ سے پہلے جتنے انبیاء گذرے ہیں وہ رحمت تو تھے لیکن رحمتہ للعالمین نہیں تھے۔ربوبیت کے مظہر تو تھے لیکن ربوبیت کا ملہ کے مظہر نہیں تھے۔حضرت موسیٰ آئے تو اُنہوں نے فرمایا کہ صرف 6