انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 518
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۱۸ سورة الانبياء ہاتھ سے نکل گئے اور اب ترکی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو یورپ کے براعظم کے اندر ہے باقی ملک ادھر ہے اور تاشقند اور دوسرے بڑے بڑے علماء پیدا کرنے والے جو علاقے تھے وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔چین میں بھی حکومت نہیں رہی۔پس ایک قسم کا تنزل ہے گو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ اس قسم کا زوال نہیں جیسا کہ دوسری قوموں اور دوسری اُمتوں پر آیا بلکہ اس زمانے میں بھی مسلمان میں روشنی اور جان نظر آتی ہے لیکن حالات کے لحاظ سے ہم اس کو تنزل کا زمانہ کہنے پر مجبور ہیں۔دوسری چیز جو ذہن میں آئی تھی پھر رہ گئی وہ یہ ہے کہ اس وقت اسلام ساری دنیا میں پھیل ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ ہمارے ان علاقوں کے انسان کو دنیا کے بہت سے حصے معلوم ہی نہیں تھے مثلاً امریکہ ہے، نیوزی لینڈ ہے، آسٹریلیا ہے، یہ Unknown (غیر معلوم ) علاقے تھے اور انسان کو ان علاقوں کے جغرافیہ کا ہی پتا نہیں تھا وہاں کی آبادیوں کا ہی پتا نہیں تھا۔پس اگر اس وقت سارے کے سارے انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جاتے اور ہم سمجھتے کہ جمع ہو گئے ہیں تب بھی ساری کی ساری نوع انسانی اسلام کے جھنڈے تلے جمع نہ ہوتی کیونکہ ایسے علاقے تھے، انسان سے آباد علاقے جن کا ہمیں علم ہی نہیں تھا اور وہاں اسلام کی تعلیم پہنچ ہی نہیں سکتی تھی کیونکہ ان علاقوں اور ان اقوام کو ہم جانتے ہی نہیں تھے۔مثلاً فجی آئی لینڈ کی جو پرانی آبادیاں ہیں انہوں نے اس زمانے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہی نہیں سنا تھا۔اب ہمارا وہاں مشن ہے اور اللہ کے فضل سے اس پرانی قوم میں سے بھی (جو کہ قریباً چودھویں صدی میں ہی سامنے آئی ہے ) مسلمان ہونے شروع ہو گئے ہیں۔غرض ہر دو جگہ پر یعنی جہاں رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کہا وہاں بھی اور جہاں كافة للناس کہا وہاں بھی ایک وعدے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ایک جگہ کہا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کب پورا ہوگا۔یہاں قرآن کریم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فکر کی کیفیت بیان کی ہے اور پھر دوسری جگہ خدا تعالیٰ نے خود بتایا کہ میں تمہیں بتا تا ہوں کہ چودھویں صدی سے اس وعدے کے پورا ہونے کا زمانہ شروع ہو جائے گا۔اب ہم اس زمانہ میں ہیں اور آج کے زمانہ کے مسلمان پر بہت بڑی ذمہ داری ہے اس لئے کہ جتنی بڑی بشارتیں کسی امت کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کے رسول کے ذریعہ سے ملتی ہیں اور