انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 515
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۱۵ سورة الانبياء اور تیرے رب کی عطا کسی خاص گروہ سے روکی نہیں جاتی نہ اللہ تعالیٰ روکتا ہے اور نہ اس کی تعلیم روکتی ہے۔تو یہ جو مساوات ہے یہ محض نعرہ نہیں جسے اسلام نے بلند کیا ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔ایک مادی حقیقت بھی۔یہ ایک حقیقت ہے ایک ذہنی حقیقت بھی اور یہ ایک حقیقت ہے۔ایک اخلاقی اور روحانی حقیقت بھی کہ کسی انسان اور دوسرے انسان میں فرق نہیں کیا جائے گا جو حقوق خدا تعالیٰ نے کسی شخص کے قائم کئے ہیں۔مثلاً ابھی جو میں نے مثال دی۔خدا تعالیٰ نے ہر شخص کا یہ حق قائم کیا ہے کہ اس کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے قوت اور استعداد عطا ہوئی ہے اس کی کامل نشوونما ہو اور اپنے کمال پر اسے قائم رکھنے کے لئے ہر ضروری چیز مہیا کی جائے۔اس میں مسلمان اور غیر مسلمان کا کوئی فرق نہیں۔نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور اسوہ میں اور اِن اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (یونس : ١٢) آپ نے کہا کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی ہوئی اور نہ اس وحی کی جس کی آپ پیروی کرتے اور جس کی پیروی کر کے آپ بنی نوع انسان کے لئے نمونہ بنے۔تو اسلام ایک عظیم مذہب ہے اس لحاظ سے بھی کہ وہ انسان، انسان کو پیار سے زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔اور اس لحاظ سے بھی کہ اس نے سارے انسانوں کو خدا تعالیٰ کی رحمت کے سائے تلے لا کے کھڑا کر دیا اور انسان انسان میں فرق نہیں کیا۔سب مساوی ہیں اس معنی میں کہ جو حقوق اللہ تعالیٰ نے ان کے قائم کئے ہیں وہ ان کو ملنے چاہئیں قطع نظر اس کے کہ ان کا عقیدہ کیا ہے۔قطع نظر اس کے کہ ان کے اعمال کیا ہیں خدا تعالیٰ نے ایک حق قائم کیا ہے۔کسی انسان کا یہ کام نہیں کہ کسی ایسے شخص کو خدا کے عطا کردہ حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کرے۔۔۔۔۔۔۔یہ بھی بتا دوں کہ جس وقت آپ نے یہ فرمایا کہ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ (حم السجدة:۷) تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گری ہوئی اور حقیر مخلوق انسان کے پاس آسمانوں سے اتر کے اور خود کوان کے مقام پر کھڑا کر کے یہ اعلان نہیں کیا کہ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم میں تمہارے جیسا انسان ہوں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے، ناقابل تردید حقیقت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کو گرے ہوئے مقام سے اٹھا کے آسمانی رفعتوں تک لے گئے اور کہا دیکھو إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ تمہاری عزت اور شرف کو قائم کرنے کے بعد میں کہتا ہوں مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے۔میری بھی عزت تمہاری