انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 516
۵۱۶ سورة الانبياء تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث بھی عزت کسی انسان کو تحقیر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جائے گا۔گنہگار کوبھی نہیں دیکھا جائے گا۔تفصیل میں جائیں گے تو بعض مثالیں ہمیں ایسی نظر آئیں گی کہ دنیا کی نگاہ میں انتہائی گناہگار انسان ہے اور اس کے خلاف ایک شخص مخلص، مومن کے منہ سے حقارت کا کلمہ نکلا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا اور سخت غصہ میں آئے اور اس کو جھڑ کا کہ اس قسم کی باتیں کیوں نکل رہی ہیں تمہارے اسلام بڑا پیارا مذہب ہے اور آج کے انسانوں کو پہلی نسلوں سے زیادہ اس کی ضرورت ہے کیونکہ پہلی نسلوں نے اپنے لئے تباہی کے اس قسم کے سامان اکٹھے نہیں کئے تھے جس قسم کی تباہی کے سامان اس دنیا نے آج کے انسانوں نے اکٹھے کر لئے ہیں۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۳۶۲ تا ۳۶۷) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑے عظیم الشان اعلان کئے ہیں۔ایک تو یہ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود تمام عالمین کے لئے ، تمام کائنات کے لئے رحمت بنایا گیا ہے اور دوسرے یہ کہا کہ آپ کی رسالت كافة لِلنّاس کے لئے ہے وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلا كَافَةُ لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا (سبا: ٢٩) ساری کی ساری نوع انسانی کے لئے آپ رسول، بشیر اور نذیر ہو کر مبعوث ہوئے ہیں۔دو مختلف سورتوں میں یہ آیتیں ہیں اور ہر دو جگہ اس اعلان کے بعد کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم عالمین کے لئے ، کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور یہ کہ آپ کی رسالت كافة لِلنَّاس کے لئے ہے یہودی اور عیسائی اور بدھ مذہب والے اور ہر قوم اور ہر علاقہ کے لوگ اور ہر زمانہ میں پیدا ہونے والے انسان، غرضیکہ آپ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک کی ہر نسل آپ کی رسالت کے ماتحت ہے۔دونوں جگہ اس اعلان کے بعد آگے ایک وعدے کا ذکر ہے۔رحمۃ للعالمین کے بعد فرمایا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ جو وعدہ تم سے کیا گیا ہے وہ کب پورا ہوگا۔وَ اِنْ اَدْرِى اَقَرِيبٌ اَم بَعِيدٌ مَّا تُوعَدُونَ (الانبیاء :۱۱۰) رسول بھی بشر ہوتا ہے اور رحمۃ للعالمین بھی بشر ہیں وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ سکتے جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے علم نہ ہو کہ وہ وعدہ جس کا ذکر کیا گیا ہے کب پورا ہوگا اور جب كَافةً لِلنّاس کہا تو وہاں یہ بتایا کہ ترقیات کی پہلی تین صدیوں کے بعد جب ایک ہزار سال گذر جائے گا تو اس وعدہ کے پورا ہونے کا زمانہ آ جائے گا یعنی چودھویں صدی سے اس وعدہ کے پورا ہونے کا زمانہ شروع ہوگا۔پس