انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 44
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۴ سورة المائدة چیز کوتم اچھا نہیں سمجھتے آنکھیں بند کر کے کیوں مانو علی وجہ البصیرت ماننا چاہیے پتہ نہیں کس کس رنگ میں وہ ان کو بہکاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کے احکام ہوں تو مان لیا کرو۔اس قسم کے احکام ہوں تو نہ مانا کرو۔قسم نہیں بتائی لیکن طریق بتادیا کہ جب چاہو مانو جب چاہو نہ مانو پس اطاعت تو ختم ہوگئی۔وہ روح جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا رنگ چڑھا دیتی ہے۔وہ روح جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم شکل بنا دیتی تھی۔وہ روح جو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنادیتی تھی کیونکہ خدا نے یہی فرمایا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو اور آپ سے محبت کرو تب میرے محبوب بن سکو گے۔دشمن کہتا ہے اس روح کو کچل دو تو نہ محمد کے ہم شکل بنیں گے نہ (اپنی اپنی استعداد کے مطابق ) صفات باری تعالیٰ کے مظہر بنیں گے نہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوں گے نہ کامیاب ہوں گے کیونکہ اسلام کا مقصد ہی یہی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض ہی یہ تھی کہ اپنی اپنی استعداد کے دائرہ کے اندر تمام بنی نوع انسان کو صفات باری تعالیٰ کا مظہر بنا کے اللہ تعالیٰ کا محبوب بنادیا جائے تا کہ خدا تعالیٰ کے احسانات اور انعامات سے انسان زیادہ سے زیادہ حصہ لینے لگ جائے تو اندرونی دشمن اور بیرونی دشمن ہر دو کا مقصد ہے اسلام کو کمزور کر کے بظاہر نا کامی کی طرف اسے دھکیلنا اور ایک ہی بنیادی حربہ ہے جو وہ استعمال کرتا ہے اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کو کمزور کر دینا ہے۔جب اطاعت کی روح کمزور ہو گئی تو یہاں بھی اختلاف کیا وہاں بھی اختلاف کیا۔ہزار دروازے فتنے اور فساد اور بغاوت اور فسوق کے کھل جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے منصوبوں اور ریشہ دوانیوں اور کارروائیوں کو دیکھ کر اے ہمارے رسول ! غمگین نہ ہو لا تحزن کی وجہ قرآن کریم نے دوسری جگہ بتائی ہے اور دل کی مضبوطی کے سامان پیدا کئے ہیں۔فرمایا کہ وَلَا تَحْزَنُ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُونَ (النحل: ۱۲۹،۱۲۸) دشمن جس دروازے سے چاہیے آئے وہ کامیاب نہیں ہو سکتا اس واسطے کہ اللہ کی مدد اور نصرت اسے ملتی ہے جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا اور نیکیوں کو احسن طور پر بجالاتا ہے تو لا تحزن میں یہ حکم ہے کہ غمگین مت ہو کیونکہ تقویٰ کے اعلیٰ ترین مقام پر تم قائم ہو اور احسن اعمال بجالانے میں تمہارا کوئی مثیل نہیں ہے۔اس واسطے اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے دشمن کا مکر کا میاب ہو ہی نہیں سکتا۔اسی کی وضاحت آپ نے فرمائی تھی۔