انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 43 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 43

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۳ سورة المائدة اس نیت کے ساتھ مسلمانوں سے تعلق پیدا کرتے تھے کہ کمزور مسلمانوں سے فائدہ اُٹھا ئیں اور غلط باتیں مشہور کر کے اسلام کو کمزور اور نا کام کرنے کی کوشش کریں۔مثال کے طور پر یہاں یہود کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مفسدین کا اصل مقصد اسلام میں کمزوری پیدا کرنا ہوتا ہے اور یہ لوگ دو طریق اختیار کرتے ہیں۔ایک اندرونی فتنہ کا اور ایک بیرونی فتنہ کا۔بیرونی طور پر تو جھوٹی باتیں یا آیات قرآنی کا مفہوم غلط بیان کر کے اسلام کو اعتراض کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اندرونی طور پر اطاعت کی روح کو کمزور کرتے ہیں۔اطاعت کی روح سَبْعًا وَطَاعَةً ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد نازل ہوتا تھا۔آپ اس پر عمل کرتے تھے اور جس طرح اور جس رنگ میں آپ اس پر عمل کرتے تھے اپنے ماننے والوں سے یہ توقع اور امید رکھتے تھے کہ وہ بھی اپنی اپنی استعداد کے مطابق اطاعت کا ایسا ہی نمونہ دکھا ئیں گے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت حقیقتا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اپنی طرف سے کچھ کہا نہ اپنی طرف سے کچھ کر کے دکھایا جو کہا وہ خدا کا فرمان جو کیا وہ اس فرمان کے مطابق ایک نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔اندرونی دشمن اور بیرونی دشمن یہ سمجھتا ہے کہ اگر اطاعت کی اس روح کو کمزور نہ کیا جائے تو وہ فتنہ نہیں پیدا کر سکتا۔اس واسطے ان کی ساری توجہ اور ان کا بھر پور وار اس روح پر ہوتا ہے جو سَبْعًا وَ طَاعَةً کی روح ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اِن اوتيتم هذا فَخُذُوهُ کہ جو تمہاری مرضی کے مطابق ہوجس چیز میں تمہارا فائدہ ہو وہ حکم تو مان لیا کرو۔یعنی جو بات تمہیں معقول نظر آتی ہے مان لیا کرو لیکن جو بات تمہاری عقل میں نہیں آتی جسے تم غیر معقول سمجھتے ہو وہ تم کیوں مانو اور جسے ہوائے نفس مضر پاتا ہے مفید نہیں پاتا اپنے لئے اسے کیوں مانو۔اطاعت کی اس روح کو کمزور کرنے کیلئے یہ حیلہ کرتے تھے کہ وہ کہتے تھے کہ اگر اس قسم کے احکام ہوں (چونکہ وسیع مفہوم ادا کرنا تھا اس واسطے احکام کی قسم کو معین نہیں کیا روح بتا دی ہے ) جو تمہارے فائدہ کے تمہیں نظر نہ آتے ہوں۔تمہاری خواہش کے مطابق نہ ہوں جو تم چاہتے ہو وہ نہ ہوں جو تمہارے نزدیک معقول نہ ہوں ایسی باتوں کو نہ مانا کرو بلکہ آزادی ضمیر کا واسطہ دے کر اور اللہ تعالیٰ نے جو عقل دی ہے اور بہت سی استعدادیں دی ہیں۔ان کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ آخر خدا تعالیٰ نے تمہیں بھی عقل دی اور روحانی قوتیں دیں جس