انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 511
۵۱۱ سورة الانبياء تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث بعد، خدا تعالیٰ کی معرفت کے حصول کے بعد، اس کی محبت دل میں پیدا ہو جانے کے بعد انسان گناہوں سے نجات حاصل کرلے گا، گناہ پر جرات نہیں کرے گا۔ہمارا دماغ ہمیں یہ پوچھتا ہے کہ ہمیں اور کیا ملے گا؟ خدا کہتا ہے کہ تمہیں اس دنیا میں جنت مل جائے گی۔محض جنت نہیں بلکہ اس دنیا میں تمہیں پاک زندگی اور جنت ملے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تار یک قبروں سے تم نکالے جاؤ گے اور روحانی زندگی تمہیں بخشی جائے گی۔پس اس معنی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ للعالمین ہیں۔ہر شے کے حقوق کی تعیین کی اور ان کی حفاظت کا سامان کیا۔ہر شے کے حقوق کی جب تعیین کی اور ان کی حفاظت کی تو ان کے لئے رحمت بن گئے۔ہر جاندار کے حقوق کی تعیین کی اور ان کے حقوق کی حفاظت کی اور ہر جاندار کے لئے آپ رحمت بن گئے۔پھر کا فرومومن ہر انسان کے حقوق کی تعیین کی اور ان کی حفاظت کی۔مسلمان کے غصے سے بھی غیر مسلم کو بچایا، ایک مسلمان کے ہاتھ کے ظلم سے بھی ایک غیر مسلم کو بچایا اور کہا کہ اگر تم میری اتباع کرنا چاہتے ہو تو تم عدل اور انصاف کو نہیں چھوڑو گے۔اس لحاظ سے آپ رحمتہ للعالمین ہیں۔پھر جولوگ اسلام لائے ، جو مسلمان ہو گئے ، جن کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ تھا اور جنہوں نے آپ کی اتباع کی ان کو خدا کی درگاہ تک پہنچادیا اور ان کو ہر چیز مل گئی۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۱۸۶ تا ۱۹۳) وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ عالمین میں صرف انسان نہیں بلکہ ہر غیر انسان مخلوق بھی عالمین میں شامل ہے اور ایک پہلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہر مخلوق کے حقوق اس تعلیم نے قائم بھی کئے اور ان کی حفاظت کا حکم بھی دیا اور ان کی حفاظت کے سامان بھی پیدا کئے۔اس عالمین میں انسان بھی شامل ہیں۔غیر انسان بھی شامل ہیں۔جن کے لئے آپ رحمت ہیں۔اس کے علاوہ خصوصیت کے ساتھ انسان کے متعلق فرمایا کہ ہم نے کافةٌ لِلنَّاسِ (سبا: ۲۹) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھجوایا ہے اور یہ آیا کہ قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹) اے انسانو! سنو!! کہ میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں یہ جو سب انسانوں کی طرف رحمت بن کے آپ آئے۔اس سے آگے دوسوتے پھوٹتے ہیں اور ان میں سے ایک کے متعلق میں پہلے ابتدا کر چکا