انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 512 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 512

۵۱۲ سورة الانبياء تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ہوں اور وہ سلسلہ چلتا رہے گا جب تک خدا تعالیٰ توفیق دے۔اور وہ یہ ہے قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا اور كَافَةَ لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا (سبا:۲۹) اس کی تفصیل میں جب ہم جاتے ہیں تو بنیادی چیز جو ہمیں یہ بتائی گئی ہے کہ اسلام انسان کو کہتا ہے کہ میں تجھے آپس میں لڑنے نہیں دوں گا پیار سے زندگی کے دن گزارو۔دنیا نے دنیوی لحاظ سے بڑی ترقی کی لیکن انسان نے انسان سے پیار کرنا ابھی تک نہیں سیکھا کیونکہ اس دنیا کے انسان نے جو دنیوی ترقیات کر چکا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی۔یہ وہ پہلا مضمون ہے جس کی میں ابتدا کر چکا ہوں۔دوسراسوتا جو اس اعلان سے پھوٹا ہے کہ آپ رحمت ہیں عالمین کے لئے اور مبعوث ہوئے ہیں بنی نوع انسان کے لئے، سارے کے سارے انسانوں کے لئے ایک رحمت بن کر آپ آئے۔اس مضمون میں بنیادی چیز اسلام نے یہ قائم کی کہ انسان، انسان میں کوئی فرق نہیں سارے انسان برابر ہیں اور قرآن کریم نے بہت جگہ اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔ایک تو کہا گیا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔جب یہ کہا گیا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے تو یہ نوع انسانی کے متعلق کہا گیا ہے کسی خاص گروہ کے لئے یہ نہیں کہا گیا۔دوسرے قرآن کریم میں ایک جگہ آیا ہے کہ قرآنی تعلیم تمہارے شرف اور تمہاری عزت کا سامان لے کر آئی۔اور عجیب بات ہے کہ جو تعلیم تمہاری عزت کے قائم کرنے اور تمہارے اندرونی شرف کو اُجاگر کرنے کے لئے آئی تھی۔اسی کی طرف تم تو جہ نہیں دے رہے۔اور تیسرے یہ کہہ کر انسانی مساوات کا کہ انسان، انسان میں کوئی فرق نہیں عظیم اعلان کیا اس فقرہ میں کہ انما أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ (الكهف : ) کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے۔جب میں ۱۹۷۰ء میں افریقہ کے دورے پر گیا تو مجھے وہاں یہ احساس ہوا کہ عیسائیت ان ملکوں میں اس دعوئی کے ساتھ داخل ہوئی تھی کہ ہم خداوند یسوع مسیح کے پیار کا اور محبت کا پیغام تمہارے پاس لے کر آئے ہیں۔لیکن ہوا عملاً یہ کہ نہ ان کی دولتیں ان کے ہاتھوں میں رہنے دیں گئیں ، نہ ان کی عزتیں ان کے پاس رہیں۔انتہائی تحقیر کے ساتھ ان کے ساتھ سلوک کیا گیا اور ساری دنیا میں اس قسم