انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 510
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث آپ رحمت بن کر آئے۔۵۱۰ سورة الانبياء تیسرا سوال جو ایک سمجھ دار انسانی دماغ سوچے گا یہ ہے کہ اگر میں اسلام لے آؤں تو مجھے کیا ملے گا ؟ یہ بڑا ضروری سوال ہے انسانی فراست اور انسانی عقل یہ سوال کرتی ہے کہ اگر میں اسلام لے آؤں۔اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤں۔اگر میں قرآن کریم کو سچی کتاب سمجھ لوں اور اس پر عمل کروں تو مجھے ملے گا کیا؟ اس کے لئے خدا تعالیٰ نے رحمتہ للعالمین کو ہمارے لئے أسوه بنا يا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا (الاحزاب: ۲۲) اور یہ اعلان کر دیا کہ میں نے ایک مثال سامنے رکھ دی ہے یہ ہے ہمارا بندہ، ہر لحاظ سے ہمارا، کامل اور مکمل انسان جس نے اپنی ساری روحانی استعدادوں کی کامل نشو و نما پانے کی ہمارے فضل سے توفیق پائی ہے، یہ تمہارے سامنے کامل نمونہ ہے۔ان کنتم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) تم اس کی اتباع کرو تو تمہیں تمہاری استعدادوں کے مطابق وہی کچھ مل جائے گا جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی استعدادوں کے مطابق خدا سے ملا۔اس کو ہم محاورہ میں کہتے ہیں کہ اتنا ملنا کہ اوور فلو (Overflow) کر جائے۔برتن چھلک جائے۔اتنا ہو کہ جھولی میں نہ سما سکے۔خدا تعالیٰ تو اتنا دیتا ہے کہ اگر انسان صحیح راستہ پر گامزن ہو تو اس کی استعداد کے مطابق اس کو سب کچھل جاتا ہے اور کوئی کمی نہیں رہتی۔یہ تو اصول ہے نا۔ملتا کیا ہے؟ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ کے مطابق جوسب کچھ ملتا ہے وہ سب کچھ ہے کیا؟ پہلے تو کہا کہ سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے، پھر فرمایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس معنی میں رحمت ہیں کہ اگر انسان آپ کی اتباع کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کا عشق اسے بخشا جائے گا اور معرفت الہی کے بعد خدا تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا کی جائے گی اور اس کے نتیجہ میں اسی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ غیر اللہ سے کامل رہائی حاصل ہو جائے گی اور جو تکیہ کیا جاتا ہے کسی شے پر یا کسی انسان پر یا کسی جتھے پر یا کسی سیاسی اقتدار پر یا کسی حکومت پر یا کسی بین الاقوامی تنظیم پر اس کا کوئی سوال نہیں رہے گا بلکہ غیر اللہ سے پوری رہائی مل جائے گی کیونکہ حمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کا عشق انسان کے دل میں پیدا ہو جائے گا۔تو محبت اور عشق کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ غیر اللہ سے رہائی حاصل ہو جائے گی اور دوسرا نتیجہ یہ نکلے گا کہ خدا تعالیٰ کو پہچاننے کے