انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 509
تغییر حضرت خلیفۃ المسح الثالث ۵۰۹ سورة الانبياء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بے جان چیزوں کے لئے بھی رحمتہ للعالمین ہیں اور جانداروں کے لئے بھی اور کافروں کے لئے بھی رحمتہ للعالمین ہیں اور مومنوں کے لئے بھی۔اب ہم انسانی حقوق سے آگے بڑھ کر اور بلند ہو کر روحانی حقوق میں داخل ہوتے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روحانی میدانوں میں انسان کے لئے اس قدر روحانی ترقیات کے دروازے کھولے ہیں کہ جن کا کوئی شمار نہیں۔روحانی ترقیات میں پہلی بات جو انسان کا دماغ سوچتا ہے مثلاً اگر کسی عیسائی یا ہندو کو اسلام کی صداقت سمجھ آ جائے تو پہلی بات وہ یہ سوچے گا کہ پچاس سال میری عمر ہوگئی میں بتوں کو پوجتا رہا، شرک کرتا رہا، کبیرہ گناہ میں نے کئے ،لوگوں کے میں نے حقوق مارے، انسانوں پر ظلم کئے ، بداخلاقیاں کیں ، غلط طریق سے مال اکٹھے کئے ،شود کے ذریعہ سے پیسہ سمیٹا، اس قدر گناہ ہیں کہ ان کا کوئی شمار نہیں۔گناہوں کی یہ گٹھڑیاں اٹھا کر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤں تو میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا ؟ مومن کا ایمان لانے والے کا پہلا سوال زبان حال سے یہی ہے۔چنانچہ اعلان کر دیا قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر:۵۴) کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم عالمین کے لئے رحمت بن کر آئے ہیں اس لئے تمہیں کوئی خوف نہیں ہے۔اگر تم ایمان لے آؤ، اگر تم سچی توبہ کر لو، اگر تم یہ عہد کر لو کہ آئندہ ان گناہوں کو ترک کر دو گے اور اسلام کی بتائی ہوئی نیکیوں پر قائم ہو جاؤ گے تو تمہارے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔دوسرا میرا خیال جو ایمان لانے والے انسان کے دماغ میں آ سکتا ہے اور آنا چاہیئے اور میں سمجھتا ہوں کہ روحانی ترقیات کے لئے بڑا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ میں انسان ہوں کمزور انسان ہوں، بشری کمزوریاں میرے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔کوشش کے باوجود بھی غفلت اور ستی کے لمحات بھی میری زندگی میں آئیں گے، کچھ گناہ مجھ سے سرزد ہو جائیں گے، کچھ نیکیاں مجھ سے چھوٹ جائیں گی تو میرا حشر کیا ہوگا۔کیا ایمان لانے کے بعد بھی مجھے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا؟ خدا تعالیٰ نے اسی جگہ یہ اعلان کر دیا کہ اگر تم نیک نیتی سے اور پوری توجہ کے ساتھ نیکیوں پر قائم ہو گے تو تمہاری نیکیاں اپنی جگہ پر ہوں گی لیکن تمہاری جو غلطیاں اور گناہ اور قصور ہیں وہ اللہ تعالیٰ سب معاف کر دے گا اور اپنی مغفرت کی چادر میں تمہیں لپیٹ لے گا۔اس لحاظ سے بھی ایک مومن کے لئے