انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 505 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 505

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة الانبياء کا وجود بے جان چیزوں کے لئے بھی رحمت ہے۔ایک تو جاندار چیزیں ہیں جن میں چوپائے بھی ہیں، پرندے بھی ہیں، چرند بھی ہیں اور انسان بھی ہیں اور ایک بے جان چیزیں ہیں مثلاً ستارے ہیں، لیلیکسیز (Galaxies) ہیں، درخت ہیں، پانی ہے، اجناس ہیں وغیرہ وغیرہ بے شمار چیزیں ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم نے بے جان چیزوں کے حقوق کو بھی بیان کیا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی اس ہدایت کے ذریعہ سے ان حقوق کی حفاظت بھی کی گئی ہے۔پس آپ کی رحمت بھی خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی وسعتوں کے ماتحت ہے۔انسان خدا تعالیٰ کی وسعتوں کو تو نہیں پہنچ سکتا لیکن اپنے کمال کو پہنچا ہوا انسان جتنا کامل بن سکتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کمال کو حاصل کیا اور آپ کی لائی ہوئی شریعت نے ہر چیز کا حق بتایا بھی اور اس کی حفاظت بھی کی۔بنیادی طور پر قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ہر چیز کا یہ حق ہے کہ جس غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے اس کا استعمال نہ کیا جائے۔ہر مخلوق کا یہ حق اسلام نے قائم کیا ہے اور اسلامی تعلیم نے اس کی حفاظت کی ہے۔مثلاً فرما یالا تسرفوا (الاعراف:۳۲) اسراف نہ کرو۔اسراف کے معنی ہی خدا تعالیٰ کے قانون کی حدود سے تجاوز کرنا ہیں۔پس اس کے یہی معنی بنتے ہیں کہ ہر چیز کے متعلق خدا تعالیٰ نے کچھ قانون بنائے ہیں ان کی پیدائش کی کوئی غرض بیان کی ہے۔اس کے خلاف تم نے اس کو استعمال نہیں کرنا۔انسان جب بہکتا ہے اور بسا اوقات بہکتا اس وقت زیادہ ہے جب وہ علم کے میدان میں اور تحقیق کے میدان میں کافی آگے نکل چکا ہو تو وہ دنیا کے لئے عذاب اور ہلاکت کے سامان پیدا کر دیتا ہے جیسا کہ ایٹم کی طاقت کا غلط استعمال ہمیں بتا رہا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اشیا کے لئے بھی رحمت ہیں کیونکہ آپ ایک ایسی تعلیم لے کر آئے جس نے انسان کو یہ بتایا کہ دیکھو اشیا خاص غرض کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور ان اغراض کے لئے ہی ان کا استعمال ہونا چاہیے اور جو قوانین ان کو گورن (Govern) کرنے والے ہیں ان سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔اس کے بعد ہم جانداروں کو لیتے ہیں۔یہ ایسی عظیم کتاب ہے کہ اس نے جانداروں کے حقوق بھی قائم کئے ہیں اور ان کی حفاظت بھی کی ہے۔بعض جاندار ایسے ہیں کہ جن کی افادیت ان کی غذائیت میں نہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لئے نہیں پیدا کیا کہ انسان ان کو کھائے۔مثلاً سور ہے یا درندے