انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 502
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۵۰۲ سورة الانبياء تو فلا كفرانَ لِسَعیہ اس کو ہم یہ تسلی دیتے ہیں کہ بشری کمزوری کے نتیجہ میں اگر اس کے اعمال میں کوئی کمی اور نقص رہ جائے گا تب بھی اس کے اعمال رڈ نہیں کئے جائیں گے۔وہ قبول کر لئے جائیں گے۔(خطبات ناصر جلد سوم ۴۹۹،۴۹۸) آیت ۱۰۸ ۱۱۰ وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ۔فَإِن تَوَلَّوا فَقُلْ أَذَنْتُكُمْ عَلَى سَوَاءٍ وَإِنْ أَدْرِى أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدُ ما تُوعَدُونَ ایک بڑی نمایاں خصوصیت جو ہمارے آقا میں پائی جاتی تھی اور جو اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی اور جس کے نتیجہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس مقام کے لئے منتخب کیا تھا اور چنا تھا کہ آپ تمام دنیا کے لئے اور تمام جہانوں کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے ابدی شریعت لے کر آئیں اور قرآن کریم کے حامل ہوں جس کے اندر کبھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی اور جس کا کوئی لفظ اور کوئی حرف اور کوئی زبر اور زیر بھی کبھی منسوخ نہیں ہوئی وہ رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ ہونے کی خصوصیت ہے۔بنی نوع انسان سے کسی انسان نے اس قدر شفقت اور محبت نہیں کی جتنی شفقت اور محبت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائی انسانوں سے کی ، نہ صرف ان انسانوں سے جو آپ کے سامنے تھے نہ صرف ان انسانوں سے جو آپ کے ملک میں رہنے والے تھے، نہ صرف ان انسانوں سے جو آپ کی زندگی میں ساری دنیا اور دنیا کے ہر ملک کو آباد رکھے ہوئے تھے بلکہ تمام ان انسانوں سے بھی جو آپ سے پہلے گزر چکے تھے اور تمام ان بنی نوع انسان سے بھی جنہوں نے آپ کے بعد پیدا ہونا تھا آپ نے سب سے ہی اس محبت کا اس رحمت اور شفقت کا سلوک کیا۔اور یہ جذ بہ اللہ تعالیٰ نے اس شدت سے آپ کے دل میں پیدا کیا تھا جس کی مثال انسان کو کہیں اور نظر نہیں آتی۔یہ ایک بڑی نمایاں صفت تھی جو ہمارے آقا میں پائی جاتی تھی اور یہی وہ صفت ہے جس کی طرف میں بڑے اختصار کے ساتھ اپنے بھائیوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔آج دنیا کو ضرورت ہے اس رَحْمَةٌ لِلعلمین کے جاں نثاروں کی جو دنیا کی بہتری کے لئے اپنی