انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 492
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۴۹۲ سورة الانبياء سکتے ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ نَبلُوكُم بِالشَّرِ وَالْخَيْرِ فِتْنَةٌ وَإِلَيْنَا ن یعنی ہم تمہاری الشر اور الخیر کے ذریعہ آزمائش کریں گے۔اور آخر ہماری طرف ہی تم کو وورودر ترجعون لوٹا کر لایا جائے گا۔گویا فرما یا اگر تم اس آزمائش میں پورے اترے جسے ہم الخیر کہہ رہے ہیں۔اس سے تم نے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا اور جسے ہم اک شہر کہہ رہے ہیں اس سے تم زیادہ سے زیادہ بچے تو جب تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ گے تو اسی کے مطابق ہماری طرف سے تمہیں اچھا بدلہ ملے گا۔قرآن کریم کے بہت سے بطون ہیں جن کے مطابق ہم اس کی بہت سی تفاسیر کرتے ہیں۔یہاں الخیر کے ایک معنی خود قرآن کریم اور اس کے اوامر و نواہی ہیں جیسا کہ فرمایا۔وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَا ذَا انْزَلَ رَبُّكُم b قَالُوا خَيْرًا لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرُ - (النحل : ٣١) کہ جب مخالفین اور نہ ماننے والے ان لوگوں سے جو تقوالی کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں اور اوامر کو بجالاتے اور نواہی سے پر ہیز کرتے ہیں) پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے اس قرآن کریم میں کیا اتارا ہے یا تمہارے رب نے کیا تعلیم تمہیں دی ہے تو وہ کہتے ہیں خیرا یعنی خیر کو اتارا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ہدایت جو الخَیرُ ( کامل خیر ) ہے جو لوگ الخَیرُ کی راہ اختیار کرتے ہیں لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ) اس کے احکام کو بجالاتے ہیں اور اس کی نواہی سے بچے رہتے ہیں۔ان کے لئے اس دنیا میں حَسَنَةٌ ( بھلائی) ظاہر ہوگی۔وَ لَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ - آخری گھر میں تو کہنا ہی کیا ؟؟ اس کی خوبیاں اور اس کے انعامات کی کنہ تو ہمارے تصور میں بھی نہیں آ سکتیں۔پس اس آیت میں قرآنی تعلیم کو خیر کہا گیا ہے اس لئے میں آیت وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِ وَالْخَيْرِ فتنہ کے یہ معنی کرتا ہوں کہ ہم قرآن کریم کے احکام ( اوامر و نواہی ) سے تمہاری آزمائش کریں گے اور اگر ہم غور سے کام لیں تو ہے بھی یہ ایک آزمائش۔کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے تم ہماری راہ میں خرچ کرو تو یہ ایک بڑی آزمائش ہے۔غور کیجئے کہ ایک شخص دن رات کی محنت کے بعد کچھ مال حاصل کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب مجھے اتنا مال مل گیا ہے کہ جس سے میں اور میری بیوی بچے خوشحالی کی زندگی بسر کر سکیں گے تب خدا تعالیٰ کی آواز اس کے کانوں میں پڑتی ہے اور اسے متوجہ کرتی ہے کہ جو مال ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس کے خرچ پر جو