انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 491
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث عاجز ہے۔۴۹۱ سورة الانبياء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ خدا کا قول اور اس کا فعل یکساں ہوتے ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں ہوتا۔قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بیک وقت وہ کتاب مبین بھی ہے اور کتاب مکنون بھی ہے اور اسی طرح خدا تعالیٰ کا جو فعل ہے یعنی خدا تعالیٰ کی صفات نے جو حدوث کا رنگ اختیار کیا اُس کے متعلق اس آیت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا جو جلوہ زمین کی صورت میں ظاہر ہوا ہے وہ بیک وقت رتق بھی ہے اور فتق کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔یہ زمین بندھی ہوئی بھی ہے اور اپنے ظاہر ہونے کی اہلیت بھی رکھتی ہے اس میں بظاہر کوئی تضاد نہیں کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخفی رازوں کا انکشاف انسانی کوشش کا مرہونِ منت ہے۔جب انسان کوشش کرتا ہے اور تلاش و جستجو میں اپنی کوشش کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کا ئنات کے مخفی راز اس پر کھلتے چلے جاتے ہیں جس سے ترقیات کے نئے سے نئے میدان اُس کے لئے نکلتے چلے جاتے ہیں۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۲۸ تا ۸۳۶) آیت ۳۴ تا ۳۶ وَهُوَ الَّذِى خَلَقَ الَّيْلَ وَالنَّهَارِ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَأَبِنْ مِتَ فَهُمُ الْخَلِدُونَ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُم بالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ پہلا امتحان اور آزمائش ) کیونکہ فتنہ کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں ) وہ احکام الہی یا تعلیم الہی ہے۔جو ایک نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آتا ہے اور جس تعلیم کے نتیجہ میں مومنوں کو کئی قسم کے مجاہدات کرنے پڑتے ہیں۔اپنے نفسوں کو مارنا پڑتا ہے بعض دفعہ اپنے مالوں کو قربان کرنے سے اور بعض دفعہ اپنی عزتیں اور وجاہتیں اللہ تعالیٰ کے لئے نچھاور کرنے سے۔قرآن کریم چونکہ آخری شریعت ہے اس لئے اس نے ہمارے لئے کامل ہدایت مہیا کی۔اور ان کامل مجاہدات کے طریق ہمیں سکھائے جن پر عمل پیرا ہو کر ہم انتہائی عظیم الشان نعمتوں کے وارث بن