انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 42 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 42

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۲ سورة المائدة جب ان سے کہا جائے کہ فساد کی باتیں نہ کرو تو جواب دیتے ہیں۔إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ (البقرة: ۱۳) یہ یہودی جو تھے وہ مسلمانوں سے تعلق قائم کرتے اور باتیں سنتے تھے اور پھر دوسروں کو جا کے کہتے تھے کہ بڑے بڑے بزرگ مصلح خدمت گزار مسلمانوں سے ہم نے یہ باتیں سنی ہیں اور اس قسم کی جھوٹی باتیں پھیلا کر وہ اسلام کے خلاف مکر اور منصوبے کرتے تھے۔دوسرے ان کا مقصد یہ تھا کہ صداقت کی باتیں ، قرآن کریم کی آیات اور ان آیات کی تفسیر سنیں اور جس رنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان ہدایتوں کے مطابق زندگی گزارتے تھے وہ دیکھیں، ان کے متعلق باتیں سنیں لیکن نیت یہ نہیں ہوتی تھی کہ صداقت کو صحیح شکل میں آگے پھیلائیں بلکہ وہ آیات قرآنی کو سنتے تھے اس نیت کے ساتھ کہ اس کا مفہوم اس رنگ میں پھیلائیں گے کہ اعتراض کرنے والے اسلام کو اعتراض کا نشانہ بنا ئیں اور اسلام کی اشاعت میں اس طرح ایک روک پیدا ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہاں یہ بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے فدائیوں کے ساتھ کمزور ایمان والوں کا جو گروہ شامل ہو گیا تھا اور کمزور ایمان والوں میں سے بھی وہ جو يُسَارِعُونَ فِي الكفیر کے مظاہرے کرتے تھے ان کا تعلق ایسے گروہوں کے ساتھ تھا کہ جو مسلمان نہیں تھے لیکن بظاہر شوق سے اسلام کی باتیں سنتے تھے اور نیت یہ ہوتی تھی کہ کچھ جھوٹی باتیں لیں اور پھیلا ئیں اور کچھ سچی باتیں لیں اور ان کا غلط مفہوم لے کر اسے بگاڑ کے لوگوں کے سامنے پیش کریں تا کہ اسلام اعتراض کا نشانہ بنے اور وہ لوگ جو اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں ان کے راستہ میں ایک روک پیدا ہو جائے اور اسلام کی فتح اور کامیابی کا زمانہ جو ہے وہ آئے ہی نہ یا اس میں تاخیر ہو جائے۔بہر حال ان کی نیتیں اور ان کی خواہشیں اور ان کی کوششیں تو یہی ہوتی تھیں کہ اسلام کا میاب نہ ہو، ناکام رہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے منافقوں کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کا تعلق فتنہ پیدا کرنے والے غیر مسلموں کے ساتھ ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی تھا۔ایسے کمزوروں کا تعلق فتنہ پرداز غیر مسلموں کے ساتھ تھا۔یہاں مثال کے طور پر یہود کا ذکر ہے لیکن جب ہم اسلامی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت اسلام پھیلا تو جب قیصر مقابلہ پر آیا عیسائیوں میں ایسے لوگ ہمیں نظر آتے ہیں جب کسرئی مقابلہ میں آیا تو ایرانیوں میں ایسے لوگ تھے جو