انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 490 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 490

تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۴۹۰ سورة الانبياء جس میں ایسے مختلف اجزا پر مشتمل پانی ہو جس پر زندگی کا سارا دارو مدار ہو۔پھر ایک طرف اس کی صفائی کا انتظام کیا گیا ہو اور دوسری طرف اس کی مناسب تقسیم کا بھی انتظام کیا گیا ہو۔۔۔۔زمین میں اللہ تعالیٰ کے بے شمار جلوے ہمیں نظر آتے ہیں۔یہ زمین ایک ہی وقت میں بندھی ہوئی گٹھڑی کی طرح بھی ہے اور فتق یعنی کھلنے یا اپنے مخفی رازوں کے ظاہر کرنے کی خاصیت بھی رکھتی ہے۔ورنہ اگر حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں ایک ہی نسل میں وہ ساری کی ساری ایجادات جو انسان نے انسانی عمر میں کرنی تھیں یا وہ Discoveries ( دریافتیں ) یا معلومات حاصل کرنی تھیں ایک ہی وقت میں رونما ہو جاتیں اور یہ ریلیں اور ہوائی جہاز اور یہ راکٹ اور یہ مختلف قسم کی دوائیاں وغیرہ پہلے زمانوں ہی میں بنالی جاتیں تو ہمارا یہ زمانہ بڑا Bore ( اُکتا دینے والا) ہوتا اور اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جو ایک Urge ( خواہش رکھی ہے کہ وہ نئی سے نئی چیزیں تلاش کرے اس خواہش کو پورا کرنے کا اُسے کوئی سامان میسر نہ آتا۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ آسمان اور زمین بندھی ہوئی گٹھڑی کی طرح بھی ہیں اور اپنے اندر فتق کی خاصیت بھی رکھتے ہیں۔ایجادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہے۔انسان نئی سے نئی معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ آسمان میں بھی آثار الصفات کے نوادر مخفی ہیں اور زمین میں بھی آثار الصفات کے نوار د مخفی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے منشا اور ارادہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔پس زمین کا ایک حصہ تو عیاں ہے اور اس کا ایک حصہ گٹھڑی کی طرح بندھا ہوا بھی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس نظام کے ماتحت انسان کے اندر ایک Urge ( خواہش ) رکھی تھی ، ایک عزم عطا کیا تھا، ایک ہمت دی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جلوؤں میں نئی سے نئی معلومات کو تلاش کرے۔چنانچہ اس Urge ( خواہش ) کو پورا کرنے کے سامان پیدا کر دیئے گئے جن سے انسان ہمیشہ فائدہ اٹھاتا رہا ہے اور آئندہ بھی اُٹھاتا رہے گا۔پس خدا تعالیٰ کے نزدیک قرآن کریم کی رو سے زمین بیک وقت رتق کی بھی اور فتق کی بھی اہلیت رکھتی ہے اور یہ فتق دراصل الہی منشا اور حکم سے ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان اس دنیوی زندگی میں دنیوی طور پر ارتقا کے بے شمار مدارج طے کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی طے کرتا چلا جائے گا۔ہمارا دماغ اس کی حد بست کرنے سے