انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 486
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۸۶ گیا ہوں کہ قرآن کریم کا علم حاصل کرتے رہنا ہے اسے بھولنا نہیں۔سورة طه (خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۵۶۷ تا ۵۷۰) آیت ۱۳۱ فَاصْبِرُ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ أَنَا الَّيْلِ فَسَبِّحُ وَ أَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ ترضى میں نے کہا ہے کہ صبر کے ایک معنی یہ ہیں کہ زبان کو قابو میں رکھا جائے۔زبان زیادہ تر اس وقت بے قابو ہوتی ہے جس وقت ایک دوسری بے قابو زبان انسان پر اندھا دھند وار کر رہی ہوتی ہے۔طبیعت میں ایک جوش اور غصہ پیدا ہوتا ہے اور زبان سختی کے مقابلہ میں سختی کی طرف جھک جاتی ہے لیکن ہمارا خدا ہمیں کہتا ہے فَاصْبِرُ عَلَى مَا يَقُولُونَ جو کچھ بھی وہ کہتے ہیں تمہیں غصہ تو آئے گا۔تمہارے نفسوں میں جوش تو پیدا ہوگا۔تمہاری زبان بے قابو ہونے کے لئے تڑپ رہی ہوگی مگر اس زبان پر وہ لگام ڈالے رکھو جو لگام میں نے تمہیں دی ہے۔اسے بے قابو نہ ہونے دو۔فَاصْبِرُ عَلَى مَا يَقُولُونَ صبر سے کام لینا کیونکہ جب تم زبان کو قابو میں رکھو گے تو آسمان سے کئی زبانیں تمہارے حق میں کھلیں گی اور فرشتے آئیں گے اور ان دُکھوں کا جواب، ان گالیوں کا جواب، ان سختیوں کا جواب، فرشتے دیں گے لیکن اگر تمہاری زبان بے قابو ہوگئی تو پھر تم فرشتوں کی مدد سے محروم ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زبان کو قابو میں رکھنے کیلئے ہم تمہیں ایک تدبیر بتاتے ہیں۔ہم تمہیں ایک نسخہ دیتے ہیں جب زبان سختی کے مقابلہ میں سختی کرنا چاہے تو یہ نسخہ استعمال کرو۔سیخ بحمد ربك تم اپنی زبان کو اس وقت اپنے رب کی حمد میں لگا دو اور اس کی تسبیح میں لگا دو اسی آیت کے آخر میں فرمایا۔لَعَلَّكَ ترضی یعنی اس وقت اس غرض سے حمد اور تسبیح شروع کر دو تا کہ تم خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرو۔پس زبان کو قابو میں رکھنے اور زبان کی سختیوں اور زبان کے طعنوں اور زبان کی ایذاء اور زبان کے وار کا مقابلہ زبان سے نہیں کرنا۔فَاصْبِرُ عَلَى مَا يَقُولُونَ دشمن طعنہ دے گا۔دشمن زبان سے سختی کرے گا، افتراء کرے گا، اتہام لگائے گا، سینوں کو چھلنی کر دے گا لیکن تمہاری زبان ان زبانوں کا مقابلہ کرنے کیلئے نہیں بنائی گئی بلکہ