انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 487 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 487

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۸۷ سورة طه تمہارے منہ میں زبان اس لئے رکھی گئی ہے کہ سبحْ بِحَمدِ رتك کہ خدا کی حمد کرتے رہو اور اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔پس جب غیر کی زبان، مخالف کی زبان اسلام پر ناجائز اعتراض کر کے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے ہودہ افتراء باندھ کر تمہارے دلوں کو دکھائے تو تمہاری زبان اپنے قابو میں رہے اور اس کو قابو میں رکھنے کیلئے اس زبان سے خدا کی حمد اور اس کی تسبیح کے ترانے گانے شروع کر دو۔ہمیں بعض دوسری آیات سے بھی پتہ لگتا ہے کہ صبر کا حمد اور تسبیح سے بڑا تعلق ہے جیسا کہ آیہ مذکورہ یعنی فَاصْبِرُ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ میں بھی بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے اور بعض دوسری آیات میں بھی صبر یا صبر کی بعض اقسام کا بڑی وضاحت کے ساتھ حد اور تسبیح سے تعلق ظاہر کیا گیا ہے اس لئے مجھے خیال آیا کہ جہاں ہم نے تسبیح اور تحمید کرنی ہے وہاں حصول صبر کے لئے بھی دعا کریں۔اس دعا میں بڑی گہرائی اور بڑی وسعت ہے کہ ربَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۵۱۱،۵۱۰)