انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 474 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 474

۴۷۴ سورة مريم تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث یہی ہے کہ تم خدا سے یہ نہ کہو کہ وہ نصرت و مدد کو جلدی لائے اور ان کا فروں کو مار دے جو ہمیں دکھ دے رہے ہیں، ایذا پہنچارہے ہیں۔زخمی کر رہے ہیں اور بعض کو قتل کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔انما نَعدُّ لَهُمْ عَدا یعنی تمہارے ساتھ بھی ایک وعدہ ہے کہ فلاں وقت مدد آئے گی اور اُن کفار کے ساتھ بھی وعدہ ہے کہ ایک وقت تک ان کو ڈھیل دی جائے گی۔دراصل یہ دونوں وعدے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اگر مسلمان کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ اُسے عصر کے وقت اللہ تعالیٰ کی مدد ملے گی تو یہ بات لازمی ہے کہ کافر کے ساتھ بھی یہ وعدہ ہو گا کہ عصر کے وقت تک اُس پر الہی گرفت نہیں ہوگی اور اصلاح کے لئے اسے مہلت دی جائے گی تبھی وہ اپنا کام کر سکتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّمَا نَعتُ لَهُمْ عَذَا ہم نے ایک وقت مقرر کیا ہوا ہے اور یہ وہی وقت ہے جو ایک مسلمان کا اور ایک کافر کا اکٹھا ہو جاتا ہے۔جس وقت مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد آتی ہے، کا فر کی ہلاکت کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے تمہارا جلدی کرنا، یاقبل از وقت گھبرا جانا اور دعائیں کرنا کہ اے خدا! ہم تکلیفیں برداشت نہیں کر سکتے۔تو ہماری مددفرما۔یہ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ کہ ان کے خلاف جلد ہلاکت کی دعائیں کرنا غلط بات ہے۔یہ نہیں ہو سکتا جس وقت تمہاری آزمائش پوری ہو جائے گی امتحان میں پورے اُتر و گے۔ان کی ڈھیل کا وقت بھی پورا ہو جائے گا۔ایک ہی وقت میں تمہاری مدد اور ان کی ہلاکت کے سامان پیدا ہو جائیں گے۔پس فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ إِنَّمَا نَعُتُ لَهُمْ عَدا میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں جلدی نہیں چلے گی اللہ تعالیٰ کی مدد کے آنے تک تمہیں صبر وثبات کا مظاہرہ کرنا ہو گا چنانچہ ساری اسلامی تاریخ دیکھ لیں۔اُس وقت بھی جب مسلمان اپنے ایمان کی رفعتوں پر پہنچا ہوا تھا اور اس وقت بھی جب مسلمان اپنے ایمان میں نسبتاً بہت کمزور ہو چکا تھا۔ہر دوصورتوں میں مسلمان اگر عصر تک قربانیاں دیتا رہا تو کامیاب ہوتا رہا اور جب بھی اس نے صبح سات بجے یا آٹھ بجے یا نو بجے یا دس بجے یا بارہ بجے یا دو بجے خدا تعالیٰ سے یہ کہا کہ اے خدا! تو نے ہماری مدد کرنے میں جلدی نہیں کی اب ہم پیٹھ دکھا رہے ہیں تو وہ ہلاک ہو گئے۔(خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۵۱،۵۰)