انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 40
سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث تا کہ تو میرا بندہ بنے۔تا کہ تو تتخلّق بِأَخْلاقِ اللہ کرے۔میرے اخلاق کا رنگ تیرے اعمال میں سے ظاہر ہو۔تو نے تو میری پرواہ ہی کوئی نہ کی تو نے میرے اس نور کو چھوڑ کے شیطانی ظلمات کو ترجیح دی۔تو نے میرے حسن کو نظر انداز کر کے انتہائی بد صورتی جو ہے شیطان کی ، اس کو اچھا سمجھا اس واسطے میرے سے کوئی تعلق نہیں۔مقام قرب سے میں تجھے رڈ کر رہا ہوں۔یہ سزا ہے ایک جو ان تین گروہوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتائی ہے۔اس کا تعلق اس آگ سے نہیں جس کی تفصیل آئی ہے۔اس کا تعلق خدا تعالیٰ کے اس ارادہ سے ہے کہ میں تجھے اپنے پاس نہیں پھٹکنے دوں گا۔اے ذلیل انسان! آسمانی رفعتوں کے لئے تجھے پیدا کیا تھا، شیطانی گہرائیوں میں تو جا گرا۔دور ہو جا۔دفع ہو جا میرے سامنے سے، لعنت ہے تجھ پر میری، یہ خدا کہتا ہے۔یہ ایک سزا بیان کی گئی ہے جو ان دو چار سزاؤں میں سے ہے جن کو میں نے منتخب کیا ہے۔( خطبات ناصر جلد نهم ۱۱۹ تا ۱۲۵) اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں بیان فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مخلصین کی جماعت دی گئی تھی اگر چہ وہ انتہائی طور پر فدائی اور جانثار اور ایثار پیشہ تھے۔اسلام کی حقیقت کو سمجھنے والے اور اپنے نفسوں کو اللہ تعالیٰ کے قدموں پر ڈال دینے والے تھے اور خدا کے لئے اور خدا کی رضا کی جستجو میں اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے لئے تیار تھے لیکن ان مخلصین کے ساتھ کچھ لوگ وہ بھی شامل تھے جن کا ایمان صرف زبان تک تھا جن کے دل ایمان سے خالی تھے۔اس گروہ میں پھر دو قسم کے لوگ پائے جاتے تھے۔ایک وہ جن کے دل اگر چہ ایمان سے اس وقت تک خالی تھے لیکن آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں ایمان داخل ہو رہا تھا جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وَلَمَّا يَدُخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمُ (الحجرات: ۱۵) کہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ تمہارے دلوں میں یا تم میں سے بعض کے دلوں میں بعد میں ایمان داخل ہو جائے اور تم پختہ طور پر اور سچے طریق پر ایمان لے آؤ۔اسی وجہ سے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ سب لوگ جن کے دل ایمان سے ابھی خالی ہیں وہ اس قسم کی حرکتیں کرتے اور اس قسم کی بداعمالیوں کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُم کہ جن کے دل ایمان سے ابھی خالی