انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 39
۳۹ سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث پھر بہت ساری تفصیل اس جہنم کی وہ بھی ہے لیکن اپنے جس مضمون جو اصل مضمون جب میں ختم کروں گا اس کے لحاظ سے میں نے بعض سزائیں منتخب کی ہیں۔ساری نہیں قرآن کریم کی لیں۔قرآن کریم نے تو کھول کے جھنجھوڑ کے رکھ دیا کافر، فاسق اور ظالم کو لیکن جو میرے نزدیک بڑی سخت اور جس نتیجہ پر انشاء اللہ تعالیٰ میں پہنچنا چاہتا ہوں اور آپ بھی پہنچ جائیں گے اس سے تعلق رکھنے والی ہیں وہ میں نے لی ہیں۔ان میں سے ایک کو آج میں لیتا ہوں اور وہ ہے لعنت۔لعنت کے نتیجہ میں جہنم ہے۔لعنت جہنم کا نام نہیں ہے۔عربی زبان میں لعنت کے جو معنی ہیں اور جس پر روشنی ڈالی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں لعنت ایک ایسا مفہوم ہے جو شخص ملعون کے دل سے تعلق رکھتا ہے اور کسی شخص کو اس وقت لعنتی کہا جاتا ہے جب کہ وہ خدا سے بالکل برگشتہ اور اس کا دشمن ہو جائے اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ لعنت قرب کے مقام سے رد کرنے کو کہتے ہیں۔تو جب کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی لعنت پڑی اس پر تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے قرب کے مقام سے اسے رد کر دیا۔تو ایسے، ایسا مناسب اعمال نہیں، عمل صالح کرنے والا نہیں کہ جو حق رکھتا ہو کہ میرے قریب آئے۔تو ناپاک ہے۔تو شیطان کا حیلہ ہے خدا کا حیلہ نہیں اس واسطے میرے پاس نہ آنا۔یہ جو ہے معنی یہ لعنت کا مفہوم ہے۔لعنت قرب کے مقام سے رڈ کرنے کو کہتے ہیں اور یہ لفظ اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جس کا دل خدا کی محبت اور پیار سے دور جا پڑے۔اور درحقیقت وہ خدا کا دشمن ہو جائے اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو گیا اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو گیا۔تو جب انسان شیطانی راہوں پر چلے۔جب انسان مَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ جو احکام اللہ تعالیٰ نے جاری کئے کائنات میں ان کو توڑنے لگ جائے اور جو مشورے اس کے کان میں شیطان اس کو دے، ان مشوروں کے مطابق وہ اپنی زندگی ڈھالنے لگ جائے اور اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی منزلت اور عظمت اور کبریائی نہ ہو اور خدا تعالیٰ سے اس کا کوئی تعلق نہ رہے اور حقیقتا وہ خدا کا دشمن ہو جائے اور خدا اس کا دشمن اور اس سے بیزار ہو جائے۔یہ ہے لعنت کا لفظ۔خدا یہ اعلان کرتا ہے کہ اے شخص! تجھے میں نے پیدا کیا تھا اس لئے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريت : ۵۷)