انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 469 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 469

۴۶۹ تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث مورة الكهف انسان جو انسانوں میں سب سے بالا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ فرمایا تھا کہ جب تم انسانوں کے باہمی تعلقات کے متعلق سوچنا شروع کرو تو اس اصول پر سوچو۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ که بشر ہونے کے لحاظ سے انسان انسان میں کوئی فرق نہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم انسان اور دوسرے انسانوں میں بھی انسان ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق اور امتیاز نہیں ہے اور اس اصول کو نہ سمجھنے یا بھول جانے کے نتیجہ میں انسانی زندگی میں بڑی خرابیاں پیدا ہوئیں۔بڑے دُکھ پیدا ہوئے۔بڑی قتل وغارت کی گئی اور مذہبی زندگی میں جب انسان انسان میں تمیز روا رکھی گئی اور ارباب مِنْ دُونِ اللَّهِ بن گئے۔انسان تو اس کے نتیجہ میں (میں نے ایک کتاب میں پڑھا) ایک بہت بڑے غیر مسلم مذہبی راہنما کے حکم سے ( یہ صدیوں پہلے کی بات ہے، اب تو انسان نسبتاً زیادہ مہذب ہو گیا ہے ) صرف ایک انسان کے حکم سے دس لاکھ انسانوں کی گردنیں کاٹی گئیں۔تو یہ جو سوچ اور فکر جس وقت بہک جاتی ہے خرابی پیدا کرتی ہے۔اس کے منبع سے فساد کے سوتے نکلتے ہیں۔یہی حال اعتقادات کا ہے۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۱۰) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں الناس کے علاوہ بشر کا لفظ بھی انہی معنوں میں استعمال کیا ہے اور کیا بھی ایک خاص محل پر۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کرایا کہ قل إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم - تو (انہیں) کہہ کہ میں تمہاری طرح کا صرف ایک بشر ہوں۔عربی لغت کی رو سے بشر کے معنوں میں بھی مرد اور عورتیں دنوں شامل ہیں جب بشر کا لفظ بیک وقت مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے بولا جاتا ہے تو مِثْلُكُمْ میں بھی دونوں شامل ہیں سو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کر دیا کہ اے مردو! اور اے عورتو! میں تم جیسا ایک بشر ہوں۔اس طرح آپ نے یہ امر ذہن نشین کرایا کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور دُنیا کے تمام مردوں اور تمام عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔سب ایک جیسے بشر ہیں۔یہ انسان کو (جس میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں ) زمین سے اُٹھا کر ساتویں آسمان تک لے جانے والی بات ہے یہ مساوات بلحاظ نوع کے ہے اور مردوں اور عورتوں کے یکساں شرف پر دلالت کرتی ہے چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو استعداد اور قابلیت ہر دوسرے انسان سے کہیں بڑھ کر عطا کی گئی تھی اس لئے استعدادوں کے لحاظ سے نیز اتفھی ہونے کے لحاظ سے