انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 463 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 463

۴۶۳ مورة الكهف تفسیر حضرت خلیفتہ المسح الثالث مطابق انتہائی قربانیوں کے نتیجہ میں بلند تر روحانی مقام حاصل کر سکتے ہو۔چنانچہ فرما یا مَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا اس سے پہلے فرمایا تھا کہ میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں اور بشر ہونے کے لحاظ سے میری عزت بھی اتنی ہی ہے جتنی تمہاری عزت ہے اور اس سے ہمیں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ دنیاوی تفاوت عزت و احترام یا ذلت اور حقارت کا باعث نہیں بننا چاہیے۔اسلام میں ان معنوں میں عزت یا ذلت کا کوئی تصور موجود ہی نہیں ہے کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ جو زیادہ مالدار ہے وہ زیادہ باعزت ہے۔کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا جو زیادہ چرب زبان ہے وہ زیادہ عزت والا ہے کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ جس کی تقریر لاکھوں کے مجمع کو مسحور کرتی چلی جاتی ہے اور وہ ایک دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے ( دنیوی لحاظ سے کئی ایسے چرب زبان لوگ پیدا ہوئے ہیں) وہ زیادہ معزز ہے اور اسی طرح کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ جس کو کم دولت ملی ہے یا سرے سے ملی ہی نہیں وہ ذلیل اور قابل حقارت ہے کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ جو شخص اپنے ماحول میں کسی وجہ سے تعلیم نہیں حاصل کر سکا وہ ذلیل اور حقیر ہے۔کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ ایک شخص جود نیوی علوم میں کمال حاصل کر لیتا ہے خدائے تعالیٰ کی نگاہ میں اس کی زیادہ عزت و احترام ہے۔احسن تقویم یعنی بشریت کے مقام سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی کسی انسان کو کسی دنیوی وجہ سے معزز یا ذلیل قرار نہیں دیا۔چنانچہ ان لوگوں کو تنبیہہ کی گئی ہے جن کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ ہمارے اموال ہمیں معزز و محترم بناتے ہیں اور جو رکی اكرمن ( الفجر : ۱۲) کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن جب بشریت یعنی احسن تقویم کے مقام سے انسان سیر روحانی میں بلند سے بلند ہونے لگتا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب تم میں سے بعض بعض پر اعزاز و اکرام پانے میں سبقت لے جائیں گے اور بعض اپنی بدعملیوں کی وجہ سے معزز نہیں رہیں گے۔غرض احسن تقویم یعنی بشریت کا مقام انسانی عزت یا ذلت کا نقطہ آغاز ہے۔بنی نوع انسان نے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اَنقَكُمُ (الحجرات : ۱۴) کے ان الہی الفاظ میں کہ جو زیادہ متقی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں زیادہ معزز ہے پہلی دفعہ بشریت کے مقام سے بلندی کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے یہ سنا کہ اب تم میں سے بعض معز ز ٹھہریں گے اور بعض ذلیل اور بعض بعض سے زیادہ معزز ہوں گے اور بعض بعض سے نسبتاً کم۔ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ سیر روحانی سے بلند ہونے کا مرحلہ تم طے نہیں کر سکتے جب تک تم ہماری ہدایت پر عمل نہ کرو اور قرآن کریم نے بنیادی