انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 462
۴۶۲ سورة الكهف تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث نے لاوارث کی عزت کرنی چھوڑ دی ہے ہم نے یتیم کی عزت کرنی چھوڑ دی ہے ہم نے کم علم یا ان پڑھ کی عزت کرنی چھوڑ دی ہے اس کے برعکس دولت مند کی عزت کرنی شروع کر دی گئی ہے ہم مسلمان وجاہت اور دبدبہ سے مرعوب ہونے لگے حالانکہ خدا تعالیٰ نے تو یہ فرمایا تھا کہ امیر و غریب بحیثیت انسان ہونے کے سب برابر ہیں۔بشر ہونے کے اعتبار سے ایک سیاسی اقتدار کے مالک شخص اور ایک کم مایہ ، غریب لا چار اور ان پڑھ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور یہ آپس میں برابر ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے دنیا اس تعلیم کو بھول چکی ہے۔انسانی فطرت اس کی بھوکی ہے۔افریقہ کے رہنے والے کئی سو سال سے مختلف نعروں کے درمیان محرومی اور بے عزتی کی زندگی گزارتے چلے آ رہے تھے۔ہمارے مبلغ وہاں گئے اُنہوں نے اسلام کی تبلیغ کی ، اسلامی مساوات سے روشناس کرایا تو وہ حیران ہو گئے اور سوچنے لگے کہ کیا ہم بھی اتنے ہی معزز ہیں جتنے یہ باہر سے آنے والے لوگ معزز ہیں کیونکہ دوسرے مشنریز (Missionaries) نے ان کو یہ احساس ہی نہیں دلایا تھا کہ بحیثیت انسان ہونے کے وہ بھی شرف اور مرتبہ رکھتے ہیں اور عزت و احترام کے مستحق ہیں۔اُن کے سامنے جب یہ تعلیم پیش کی گئی اور جب اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا کہ إِنَّمَا أنا بشر مثلكم یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو سب زمانوں اور مکانوں کے لئے مبعوث ہوئے تھے جن کی عزت اربوں ارب لوگوں نے کی اور ہوتی چلی جائے گی جن کے لئے فدائیت کے بے نظیر نمونے پیش کئے گئے۔آپ نے یہ فرمایا ہے کہ میں بلحاظ بشر ہونے کے تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔چنانچہ اتنے بڑے اور عظیم الشان انسان کی زبان مبارک سے رنگ ونسل کی تفریق کو یکسر مٹا دینے کی اس تعلیم سے وہ بے حد متاثر ہوتے ہیں اور اس محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان کے دلوں میں عزت و احترام کا بے پناہ جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔چنانچہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ اب وہ ہمارے مبلغوں سے گلے ملتے ہیں اور ان سے پیارو محبت کرنے لگے ہیں۔غرض اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ میں اللہ تعالیٰ نے جن ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے ان کی طرف متوجہ ہونا ہر ایک احمدی کے لئے از بس ضروری ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اعلان کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر آپ ہمارے جیسے ایک انسان ہو کر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سیر روحانی میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی روشنی میں اپنی اپنی استعداد کے