انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 458 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 458

۴۵۸ سورة الكهف خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۸۰ تا ۸۴) تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث آپ نے اپنے متبعین، امت محمدیہ کے لئے اتنا عظیم اُسوہ چھوڑا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔بشر کے لحاظ سے بھی ہم آپ کی ذات اپنے تصور میں لائیں یا نور اور سراج منیر کے لحاظ سے آپ کی ذات اپنے تصور میں لائیں بے اختیار ہمارے منہ سے نکلتا ہے اللهم صلِ على محمد وعلى آل محمد انبیاء علیہم السلام ہر قوم اور ہر زمانہ میں مبعوث ہوتے رہے ہیں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل بنی نوع انسان کو انسانی شرف اور عزت اور مرتبہ کا علم نہیں دیا گیا تھا کیونکہ ابھی وہ اپنی جسمانی اور روحانی ارتقاء کے دور میں اس مقام پر نہیں پہنچے تھے جہاں وہ اس بات کو سمجھ سکتے کہ انسان اشرف المخلوقات کی حیثیت میں پیدا کیا گیا ہے اور مقصد حیات بشریت ہی کے ساتھ وابستہ ہے۔اس لئے پہلی کتب کی تعلیموں کا تعلق صرف ان اقوام کے ساتھ نظر آئے گا جن کی طرف مختلف انبیاء مختلف زمانوں میں مبعوث ہوتے رہے اور پہلی کتب کی تعلیمیں صرف اخلاقی اور روحانی تربیت ہی کے لحاظ سے نہیں بلکہ دنیوی تعلقات کے لحاظ سے بھی انسان، انسان میں فرق کرتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کے انبیاء کی تعلیمات میں بہت سی تحریف اور تبدیلی واقع ہو چکی ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ یہ تعلیمات انسانی مقام اس کے شرف اور مرتبہ کو قائم کرنے والی نہیں ہیں۔یہی حال بنی اسرائیل کے انبیاء کا ہے ایک زمانہ میں وہ بڑی مظلوم قوم تھی۔ان کی قومی عزت خطرہ میں تھی۔تب اللہ تعالیٰ نے اُن کو انتقام کی تعلیم دی اُن میں عزت نفس پیدا کی۔پھر گووہ اس پر قائم نہ رہ سکی اور دوسری ایکسٹریمز Extreems (انتہا) پر چلی گئی تاہم ان انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی یہ غرض نہیں تھی کہ وہ اس بات کا بھی اعلان کریں کہ بنی نوع انسان اشرف المخلوقات ہیں اور آپس میں سب برابر ہیں لیکن چونکہ ایک خاص وجہ سے اور ایک خاص مقصد کے پیش نظر جس کا ذکر میں ابھی کروں گا انسانی شرف کو قائم کرنا تھا اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ اعلان کیا گیا کہ تمام انسان برابر ہیں اور ہمیں ایک ایسی تعلیم دی گئی جس میں انسانی شرف اور مرتبہ کو وضاحت سے بیان کر دیا گیا اور یہ تعلیم صرف عرب کے رہنے والوں کو مخاطب کر کے نہیں دی گئی۔تمام عالمین کے انسان اس تعلیم کے مخاطب ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسانی مرتبہ کو سمجھانے کیلئے فرمایا۔وَ مِنْ آيَتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ