انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 457
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۵۷ سورة الكهف یہ میرا استدلال نہیں ہے بلکہ آپ نے فرمایا ہے کہ میں خاتم النبین تھا اور ابھی آدم پیدا نہیں ہوا تھا اس کا وجود مٹی کے ذروں میں گم ہوا ہوا تھا اور مٹی کے ذروں کے ساتھ رُل رہا تھا اور مجھے اس وقت خدا تعالیٰ نے خاتم الانبیاء بنادیا تھا یہ بات تو واضح ہے کہ خاتم الانبیاء کا مقام بشر کا مقام نہیں ہے خاتم الانبیاء کا مقام نور کا مقام ہے، سراج منیر کا مقام ہے جس طرح چاند ہے یا جو سورج کے گرد گھومنے والے ستارے ہیں وہ چاند اور وہ ستارے سورج سے نور لے کر اپنا نور ظاہر کرتے ہیں اسی طرح پہلوں نے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء کے نور سے نور لیا اور وہ دنیا میں چپکے اور بعد میں آنے والوں نے بھی آپ ہی کے نور سے نور لیا یعنی ہر قسم کا قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی حاصل ہوتا ہے صدیق بھی نہیں بن سکتے جب تک آپ سے نور نہ لیں اور شہید یا صالح بھی نہیں بن سکتے جب تک یہ نور نہ حاصل کریں ان سے بھی جو کم ہیں یعنی چھوٹے سے چھوٹا پیار بھی خدا سے حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ اس نور کی جھلک ان کے اندر پیدا نہ ہو تب اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ( النور :۳۶) اپنی کچھ مشابہت دیکھ کر یعنی اس نور کی جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل کیا ہوتا ہے اپنے پیار اور محبت کا سلوک کرتا ہے۔یہ ہے ہمارا ایمان اور یہ ہے ہمارا عقیدہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق، کہ ایک ہی وقت میں آپ بشر بھی ہیں اور نور بھی ہیں۔نور کے متعلق میں نے ذرا تفصیل سے بتایا ہے اور بشر کے متعلق میں نے مختصر بتایا ہے لیکن بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ اسوہ بننے کے لئے سپر (super) کی ضرورت نہیں تھی۔کوئی بن ہی نہیں سکتا۔انسان انسان کے لئے اُسوہ بن سکتا ہے اور بشر بشر کے لئے اسوہ بن سکتا ہے۔فرشتے بشر کے لئے اُسوہ نہیں بن سکتے۔تو خدا نے آپ کو بشر بنایا اور قرآن کریم نے آپ کی وفات کا ذکر کیا۔شعراء روئے کہ ہماری آنکھوں کا نور تو تھا۔شاعر بھٹک بھی جاتا ہے اور یہاں بھی شاعر بھٹکا کہ میری آنکھوں کا نور تو تھا۔اب میرے لئے دنیا اندھیر ہوگئی ہے یہ درست ہے کہ یہ جذبات کا اظہار ہے اور بڑا پیارا اظہار ہے لیکن آنکھوں کا نور تو ہم سے علیحدہ نہیں ہوا وہ تو جب سے دنیا بنی ہے وہ نور اس دنیا، اس کائنات کے ساتھ لگا ہوا ہے سب سے پہلا نبی جو دنیا کی طرف آیا اس نے بھی اس نور سے حصہ لیا وہ نور دنیا سے کس طرح علیحدہ ہو گیا لیکن یہ ٹھیک ہے کہ بشر کا جو وجو د تھا اس کے لحاظ سے کچھ عرصے کے بعد وفات ہو گئی لیکن بنی نوع انسان کے لئے اتنا عظیم اُسوہ آپ نے چھوڑا ہے۔بنی نوع انسان تو جب تک مانے نہیں فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔