انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 456 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 456

۴۵۶ مورة الكهف تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ہے انسان کے اندر یا دوسری مخلوق میں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء کے طفیل نظر آتا ہے۔انبیاء نے بھی نور نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے حاصل کیا اور ذہنوں نے نور فراست بھی وہیں سے حاصل کیا اور درختوں نے نور روئیدگی بھی وہیں سے حاصل کیا اور گھوڑے اور بیل اور یہ جو جانور ہیں انہوں نے نورِ خدمت بھی وہیں سے حاصل کیا اس لئے کہ یہ جو آپ کا مقام نور ہونے کا ہے اس کے نتیجے میں آپ کو لو لاكَ لَمَا خَلَقْتُ الأفلاك ( موضوعات بير زیر حرف لام) کہا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ئنات کا منصو بہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے بنایا کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء اور اپنے بعد نور کامل کے طور پر پیدا کرنا چاہتا تھا اگر حضرت خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کامل نور انسانی یعنی انسان بھی اور کامل نور بھی ، نہ بنایا ہوتا تو یہ کائنات نہ بنائی جاتی اور اگر یہ کائنات نہ پیدا کی جاتی تو پھر نہ درختوں کا نور ہوتا، نہ حسینوں کے حسن کا نور نہ کام کرنے کے حسن عمل کا نور، نہ نبیوں کا نور۔یا مقربین الہی کا نور کوئی نور ہوتا ہی نہ۔تو اس کا ئنات کی تخلیق کا منصوبہ نور ہے یہ نور ہے۔جس کے متعلق انسان کو کہا گیا کہ وہ تمہیں بلاتا ہے تم لبیک کہتے ہوئے اس کی طرف دوڑو کیونکہ وہ تمہیں اس لئے بلاتا ہے کہ تمہیں زندگی دے اور اس کا ئنات میں جو سب سے حسین نور اور سب سے اچھا نور ہمیں نظر آتا ہے وہ زندگی کا نور ہے یعنی وہ نور جو الحی القیوم کے ساتھ وابستگی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم الانبیاء بنایا اور اس کے نتیجے میں یہ نور کا مقام ہے خاتم الانبیاء مقام کا نور کامل کا مقام ہے اور آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک اگر ایک لاکھ بیس ہزار نبی آئے تو ایک لاکھ بیس ہزار نبی نے اور اگر دوسروں کے نزدیک ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے تو ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی نے اس نور سے نور لیا اور خاتم الانبیاء کے نتیجہ میں آدم نبی بنے اور نوح نبی بنے اور موسی نبی بنے اور عیسی نبی بنے اور ابراھیم علیہم السلام نبی بنے اگر اس کائنات میں یہ نور نہ ہوتا یعنی پلینڈ (planned) نہ ہوتا اس کا منصوبہ نہ ہوتا تو نہ آدم کی ضرورت تھی نہ نوح کی نہ ابراہیم کی نہ موسیٰ کی نہ عیسی علہیم السلام کی۔کسی کی بھی ضرورت نہیں تھی۔پہلوں نے بھی خاتم الانبیاء سے نور لیا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کیا اور بعد میں آنے والوں نے بھی قیامت تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء سے نور لیا یا لیں گے اور خدا تعالیٰ کے قرب کے مدارج ان کو ملیں گے تو ایک لاکھ بیس ہزار آ گیا اور ایک کے اوپر اعتراض پیدا ہو گیا۔یہ جو خاتم الانبیاء کا مقام ہے اس کے متعلق آپ نے فرمایا