انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 443
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۴۳ مورة الكهف سعی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اس کے مطابق وہ بدلہ پاتے ہیں۔وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو حاصل کرتے ہیں اور قہر کی آگ ان کے حصہ میں ہے لیکن ان میں بھی فرق ہے۔کسی پر اللہ تعالیٰ کم غضب نازل کرتا ہے کسی پر زیادہ کرتا ہے۔یہاں یہ مضمون اس بات سے شروع کیا گیا ہے کہ جو سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں ان کے متعلق ہم تمہیں کچھ بتانے لگے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے اپنے اعمال کے لحاظ سے وہ ہیں کہ جو ایک تو خدا کو پہچانتے نہیں، اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے۔دوسرے وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نشان ظاہر ہوتے ہیں ان کو پہچانتے نہیں اور جس غرض سے وہ نشان ظاہر ہوتے ہیں وہ غرض ان کی نظر سے پوشیدہ رہتی ہے۔بدقسمت ہیں وہ اس لئے کہ ان کی ساری توجہ، ان کی ساری کوشش ، ان کا سارا عمل ان کا مقصود اور ان کی ہمت جو ہے وہ اس دنیوی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اس ورلی زندگی کو انہوں نے اپنا مقصود بنالیا۔دوسری بات یہاں اللہ تعالیٰ یہ بیان کرتا ہے ان آیات میں اس زندگی کو ورلی زندگی کو انہوں نے اپنا مقصود بنالیا، اس کے لئے وہ عمل، کوشش، سعی اور جہد کرتے ہیں اور پوری توجہ کے ساتھ اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ اور اپنی پوری ہمت کے ساتھ اس دنیا کو اور صرف اس دنیا کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔دنیا کے اموال کے حصول کے لئے جائز و ناجائز میں کوئی تمیز نہیں کرتے۔عزت کی خاطر اپنی چوہدراہٹ کی خاطر اپنی بڑائی کی خاطر وہ ظلم اور انصاف کی کوئی تمیز نہیں کرتے اور جب حقیقت بعض دفعہ سمجھتے بھی ہیں تو ان کی عزت کی بیچ جو ہے اپنی ذاتی دنیوی لحاظ سے جو انہوں نے اپنا ایک وقار جھوٹا بنایا ہوا ہے اس دنیا میں اس کی خاطر وہ حقیقت کو اور صداقت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے اپنے اعمال کے لحاظ سے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ورلی زندگی ہی کو اپنا مقصود بنالیا۔اسی سے انہوں نے غرض رکھی خدا کو بھول گئے جو خدا تعالیٰ نے آیات ظاہر کی تھیں ان کی اصلاح کے لئے اور جو ہدایت بھیجی تھی مختلف انبیاء کے ذریعے مختلف زمانوں میں یہ اصولی بات یہاں بیان ہو رہی ہے آدم سے لے کے قیامت تک اس کا بھی انہوں نے کوئی خیال نہیں کیا۔بس دنیا ہے دنیا ہے، کھانا ہے، پینا ہے، سونا ہے، ناچ ہے، گانا ہے، کہیں ہیں، چغلیاں ہیں، بدظنیاں ہیں، اپنی گیا