انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 439 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 439

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۳۹ مورة الكهف يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِنْ رَبِّكُمْ فَا مِنُوا خَيْرًا لَكُمْ (النساء : ۱۷۱) خدا تعالی کی طرف سے رسول حق لے کر تو آ گیا ہے تمہیں اجازت بھی دے دی گئی۔تمہاری مرضی ہے ایمان لاؤ یا نہ لاؤ لیکن تمہیں یہ بتادینا ضروری ہے فَامِنُوا خَيْرًا تَكُمْ تم ایمان لاؤ گے تو اس میں تمہاری اپنی بھلائی ہے۔غرض خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو بڑے پیار سے سمجھاتا ہے کہ بنیادی طور پر مذہبی آزادی تو ہے لیکن حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ انسان خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاکر اعمالِ صالحہ بجالائے جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں۔مذہبی آزادی کے بارہ میں اس وقت میں صرف دو آیات کی تشریح کروں گا۔پہلی تو سورۃ کہف کی آیت ہے جس کے متعلق میں مختصر آبتا چکا ہوں۔اب میں دوسری آیت کو لیتا ہوں اور وہ سورۃ یونس کی یہ آیت ہے:۔قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيل (يونس: ١٠٩) اے رسول! لوگوں سے کہ دو کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک کامل صداقت نازل ہو گئی ہے۔چونکہ پہلے مخاطب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور پھر آپ کے متبعین ہیں، قرآن کریم کی ہدایت چونکہ قیامت تک ہے اس لئے یہ حکم آپ کی وساطت سے آپ کے متبعین اور پھر سب انسانوں کو قیامت تک کے لئے ملا ہے فرمایا :- قَدْ جَاءَكُمُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُم تمہارے رب کی طرف سے ایک کامل صداقت نازل ہو گئی ہے۔فَمَنِ اهْتَدى اب جو شخص اپنی مرضی سے اس کی بتائی ہوئی ہدایت کو اختیار کرتا ہے فَإِنَّمَا يَهْتَدِی لنفسه تو وہ اپنی جان کے فائدہ ہی کے لئے ہدایت کو اختیار کرتا ہے۔گویا انسان کو اس بات کی آزادی ہے کہ مرضی ہو تو ہدایت کو اختیار کرلے اور اگر وہ اختیار نہ کرنا چاہے تو اس پر خدا اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی جبر نہیں البتہ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا جو شخص اس راہ سے بھٹک جائے تو اس کے بھٹکنے کا وبال اسی کی جان پر ہے اس لئے ہر انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ خوب سوچ لے اور پھر کوئی فیصلہ کرے۔غرض خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ اعلان کرادیا کہ اے لوگو تمہیں