انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 434
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۴۳۴ سورة بنی اسراءيل آپ پڑھتے ہوئے تمہارے ذہن میں حاضر ہوں اور دوسروں کو سناتے ہوئے قرآن کریم اس طرح وہ تمہارے سامنے ہو۔جماعت احمدیہ چونکہ عظمت قرآن کریم کوعلی وجہ البصیرت سمجھتی ہے اس لئے عام طور پر کہیں غلطی کرتی ہوگی اور اسی کی اصلاح کے لئے آج میں نے یہ بات چھیڑی ہے، قرآن کریم کی تلاوت پڑھنے یا سنانے کے لئے اس طرح نہیں کرتی کہ جس طرح حروف کا پتا ہی نہ لگے اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کوئی ایک آدھ لفظ سمجھ آجائے سننے والے کو اور باقی سب غائب ہو جا ئیں اس کے اندر۔قرآن کریم نے کھول کر یہ بیان کیا وَ قرانًا فَرَقْنَهُ ہم نے اسے قرآن بنایا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے اور آیت آیت اور سورۃ سورۃ کی شکل میں اسے محفوظ کیا ہے لِتَقُرآنا على الناس تاکہ تم لوگوں کے سامنے اسے پڑھ کر سناؤ۔النَّاس کے معنے عربی زبان میں نوع انسانی کا ہر فرد مرد ہو یا عورت ہے کیونکہ الناس کے معنے میں مردوزن دونوں آتے ہیں اور الناس کے معنے نوع انسانی ہے، مسلم ہو یا غیر مسلم۔لتقران على الناس تم اسے سناؤ دوسروں کو لیکن سناؤ اس طرح کہ جس طرح آیت آیت نازل ہوئی ہے آہستہ آہستہ ، نرمی کے ساتھ اور ٹھہر ٹھہر کے اور عجلت کی راہوں کو اختیار نہ کرتے ہوئے ، ایک ایک حرف ان کے سامنے آتا چلا جائے تاکہ ان کو سوچنے کا بھی وقت ملے سنتے ہوئے۔لِتَقْرَآةُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُلْثٍ وَ نَزَلْنَهُ تَنْزِيلاًا امام رازی نے اس کے معنے یہ کئے ہیں کہ تھوڑا تھوڑا کر کے اس لئے نازل کیا اول۔ہمارے لئے یاد کرنا سہل ہو۔سننے والے کے لئے یاد کرنا سہل ہو۔یعنی اگر جلدی سے گزر جاؤ گے تو کوئی بات ایک کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری، تیسری کے بعد چوتھا نکتہ اس کے سامنے آئے گا تو اس کا حافظہ ان عظیم باتوں کو جو قرآن کریم بیان کر رہا ہے اور ان روحانی اسرار کو سنے گا تو سہی لیکن ان کو یاد نہیں رکھے گا۔اس واسطے آہستہ آہستہ اسے پڑھ کر سناؤ تا کہ یاد کر نا سہل ہو اور یا درکھنا سہل ہو۔دوسرے اس لئے کہ تا کہ انسان جب آہستہ آہستہ افق کے ساتھ (مکث کے معنے کئے گئے ہیں رفق ) اور نرمی کے ساتھ اور عجلت نہ کرتے ہوئے قرآن کریم کو غور سے پڑھے گا تو قرآن کریم کے حقائق اور دقائق اس کے سامنے آئیں گے اور وہ ان سے فائدہ اٹھا سکے گا۔امام رازی نے دوسرے معنے یا حکمت یہ بیان کی ہے۔امام رازی نے ہی سعید بن جبیر سے یہ روایت کی ہے کہ آیت آیت