انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 435
۴۳۵ سورة بنى اسراءيل تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اس لئے ہم نے اس کو آیت آیت نازل کیا اور کہا آہستہ آہستہ پڑھو کہ تا علی مُکث پڑھا جاسکے۔تا نرمی اور محل اور آہستہ آہستہ پڑھ کر سنایا جا سکے، جلدی جلدی نہ ہو۔بعض لوگ اس قدر جلدی تلاوت دوسروں کو سنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پتا ہی نہیں لگتا کہ الفاظ کیا ہیں حروف تو علیحدہ رہے۔قرآن کریم تعویذ نہیں۔قرآن کریم جادو نہیں قرآن کریم موعظہ حسنہ سے بھری ہوئی کتاب ہے۔قرآن کریم ہماری زندگیوں میں ایک انقلاب عظیم بپا کرنا چاہتا ہے۔قرآن کریم ہماری زندگی کے ہر شعبہ میں راہنمائی کے لئے آیا ہے۔قرآن کریم ہمیں ان راستوں پر چلانا چاہتا ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول تک لے جانے والے ہیں۔اس لئے قرآن کریم عظیم ہے کہ اعلان کیا اسی واسطے علی مل آ گیا کہ كُنتُم خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( ال عمران : ااا) تم ایک ایسی امت ہو جس سے کسی کو دکھ اور بے آرامی نہیں پہنچ سکتی۔ہر شخص کی بھلائی کے لئے۔جو دھر یہ ہے اس کے لئے بھی خیر ہو تم ، جو مشرک ہے اس کے لئے بھی خیر ہو تم اور جو اسلام سے باہر کسی دین کا تابع ہے اس کے لئے بھی خیر ہو تم تمہارا کام سکھ پہنچانا ہے دکھ پہنچانا نہیں۔اس قدر تاکید کی گئی کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔(خطبات ناصر جلد نم صفحه ۱۸ تا ۲۰)