انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 431 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 431

۴۳۱ سورة بنى اسراءيل تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث یعنی شیطان جس کی صفات ہم نے اوپر بیان کی ہیں وہ انسان کے لئے ایسا دشمن ہے جو مبین ہے انسان ایک تو اس مخلوق کو کہتے ہیں جو آدم علیہ السلام کی ذریت ہے لیکن عربی زبان میں اس کے معنی اس ہستی کے ہیں جوا کیلے زندگی بسر نہ کر سکے بلکہ اس کے دل میں دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلقات پیدا کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہو۔اس کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہو کہ وہ ہم جنس لوگوں سے اُنس رکھے اپنے ہم جنس انسانوں کے ساتھ اُلفت اور محبت قائم کرنے والی ہستی اور وہ ہستی جو دوسری طرف اپنے رب کے ساتھ بھی تعلق رکھنے کی خواہش رکھتی ہے اس کے اندر یہ ودیعت کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہے۔پیدا کرنے والے رب کے ساتھ تعلق قائم کرے اور اس کی رضا کو حاصل کرے انسان کہلاتی۔پس ان دو قسم کے قرب اور تعلق ایک طرف انسان سے محبت اور دوسری طرف اپنے خالق و مالک سے تعلق ) رکھنے والی ہستی کو ہم انسان کہتے ہیں اور اِنَّ الشَّيْطَنَ يَنْزَعُ بَيْنَهُمْ - إِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوا مُّبِینا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔حالانکہ یہاں ضمیر بھی استعمال کی جاسکتی تھی اور کہا جا سکتا تھا کہ اِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لَهُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا۔لیکن یہاں ضمیر استعمال نہیں کی گئی نہ عباد کا لفظ دُہرایا گیا بلکہ انسان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اس میں یہ حکمت ہے که انسان دو طرفہ تعلق قائم کرنا چاہتا ہے ایک طرف تو وہ اپنے بھائی انسان کے ساتھ تعلق قائم رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف اپنے خالق رب کے ساتھ تعلق جوڑنا چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انسان کو انسان کہا جاتا ہے۔بہر کیف یہاں فرمایا شیطان انسان کا دشمن مبین ہے اور مبین کے لفظ کے معنی اُردو میں کھلے کھلے کے کئے جاتے ہیں جو درست ہیں۔چنانچہ کہا جاتا ہے ابان الشی اتضح فهو مبين (المنجد) پس اس حصہ آیت کے معنی ہوں گے۔شیطان انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے لیکن عربی زبان میں اس کے اور معانی بھی ہیں مثلاً کہتے ہیں ابان الشی اوضحه (المنجد ) یعنی جب کسی شیے کے متعلق ابان کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنی ہوں گے اسے واضح کر دیا اور شیطان جب انسان پر حملہ کرتا ہے تو چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی ہے اس لئے شیطان اس کی عقل کو چکر دینا چاہتا ہے اور اس کے سامنے بعض بُرائیوں کو وضاحت سے خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے کہ تمہیں ان پر عمل کرنا چاہیے۔حالانکہ وہ چیزیں خدا تعالیٰ سے دور۔لے جانے والی ہوتی ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ بھی اس نے یہی سلوک کیا تھا اور اس نے کہا تھا اگر تم یہ کام کرو گے تو تم کو ابدی جنت مل جائے