انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 432 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 432

۴۳۲ سورة بنی اسراءیل تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث گی۔گویا اس طرح اس نے بظاہر معقول اور روحانی دلیل دے کر آپ کو خدا تعالیٰ کے رستہ سے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔پس ان معنوں کے لحاظ سے اِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوا مُّبِينًا کے یہ معنی ہوں گے کہ شیطان انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے اور وہ اپنی ان باتوں کو جو خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہیں ایسی وضاحت سے بیان کرتا ہے کہ انسانی عقل انہیں صحیح سمجھنے لگ جاتی ہے اور اس میں وہ بعض اوقات کامیاب ہو جاتا ہے کیونکہ انسان عقل کا جہاں صحیح استعمال کرتا ہے وہاں بسا اوقات وہ اس کا غلط استعمال بھی کرتا ہے پھر ابان الشییء کے ایک معنی قطعہ و فصلہ (المنجد ) کے بھی ہیں یعنی اسے قطع کر دیا۔اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔اس لحاظ سے اِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مبینا کے معنی ہوں گے شیطان انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے وہ انسان کے دوطرفہ تعلقات ( یعنی ایک طرف اس تعلق کو جو انسان کا انسان سے ہوتا ہے اور دوسری طرف اس تعلق کو جو اس کا خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے ) کو قطع کرنے والا ہے اور اس کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ انسانوں کے درمیان باہم جھگڑا لڑائی فتنہ اور فساد پیدا ہو۔کبھی تو وہ مذہب کے نام پر انسانوں کے خون بہا دیتا ہے اور کبھی وہ دہریت کی آواز بلند کر کے انسانی جانیں ضائع کرنے کی کوشش کرتا ہے اور فتنہ وفساد پیدا کرتا ہے اور شیطان اس مخفی وجود کا نام بھی ہے جو انسان کے اندر وساوس پیدا کر کے اسے حق سے دور کر دیتا ہے اور اس سے مراد وہ لوگ اور وہ قومیں بھی ہیں جو شیطان کی ذریت اور اس کے ساتھ ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ شیطان کے جن حربوں کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ان کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تمہارے ان تعلقات پر ضرب لگتی ہے جو تمہارے آپس کے ہوں یا خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوں۔پس شیطان کا حملہ بنیادی صداقتوں پر ہوتا ہے نہ وہ اس دنیا میں امن چاہتا ہے اور نہ امن پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور نہ اُخروی زندگی کے متعلق صلاح کا خواہش مند ہے بلکہ وہ ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ تمہارے اپنے رب سے بھی تعلقات استوار اور مستحکم نہ ہوں۔تمہارا خدا تعالیٰ سے اتنا مضبوط رشتہ نہ ہو جائے کہ تم اُخروی زندگی میں خدا تعالیٰ کی رضا کی راہوں پر چلتے ہوئے ایک ابدی جنت کے انعام کے وارث بنووہ تمہارے دونوں تعلقات کو قطع کرتا ہے۔پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شیطان تمہارا دشمن ہے اور وہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان جو تعلقات ہیں انہیں ہمیشہ قطع کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے وہ تمہارے باہمی تعلقات کو بھی بگاڑتا ہے اور اس طرح انسان کو انسان سے علیحدہ کر دیتا ہے۔