انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 428 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 428

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۲۸ سورة بني اسراءيل قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔دس گنا، سو گنا، سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ۔خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۱۸ تا ۲۰) آیت ۵۵٬۵۴ وَ قُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ b الشَّيْطَنَ يَنْزَعُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوا مُّبِينًا b رَبُّكُم اَعْلَمُ بِكُمُ إِنْ يَشَا يَرْحَمُكُمْ أَوْ إِنْ يَشَأْ يُعَذِّبُكُمْ وَمَا اَرْسَلْنَكَ عَلَيْهِمْ وَكِيلاً یعنی ان لوگوں کو جو خدائے واحد کی خلوص اور تذلل کے ساتھ اطاعت کرنے والے اور صفات الہیہ کے مظہر بننے کے خواہشمند ہیں میرا پیغام پہنچا دو کہ وہ وہی بات کہا کریں جو سب سے زیادہ اچھی ہے اب کسی بات کا اچھا اور بُرا ہونا مختلف پہلوؤں سے ہو سکتا ہے۔بعض باتیں بعض لوگوں کے نزدیک اچھی ہوتی ہیں لیکن وہی باتیں بعض دوسروں کے نزدیک بری ہوسکتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے عبادی میں بندوں کو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔اور اس طرح اس سوال کا جو یہاں پیدا ہونا تھا خود ہی جواب دے دیا ہے اور وہ جواب یہ ہے جو میری نگاہ میں بھی احسن ہو اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کون سی چیزیں احسن ہیں۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں وہیں چیزیں احسن ہیں جو اسے اچھی لگتی ہیں جنہیں وہ پسند کرتا ہے۔جن کو دیکھتے ہوئے اور اپنے بندوں پر رحم اور فضل کرتے ہوئے وہ اپنی قرب کی راہیں اور اپنی رضا کے طریق انہیں سمجھاتا ہے اور ثواب کے دروازے ان پر کھولتا ہے۔پس یہی وہ چیزیں ہیں جو خدا تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ ہیں۔اور ان کا ذکر ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے اور قرآن کریم میں ہی مل سکتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہاں اس امر کی طرف متوجہ کیا ہے کہ تمہاری زبان تمہیں دوزخ کی طرف بھی لے جاسکتی ہے اور تمہاری زبان تمہیں میری رضا کی جنت کی طرف بھی لے جاسکتی ہے۔اس لئے تم اپنے قول اپنی باتوں اور اپنی نگاہ پر قابورکھو اور اپنی زبان کو آزاد نہ چھوڑو بلکہ اگر تم میرے بندے بننا چاہتے ہوا اگر تم میری اطاعت تذلل کے ساتھ کرنا چاہتے ہو، اگر تم میری وحدانیت کے قیام کی طرف متوجہ ہو، اگر تم میری صفات کے مظہر بننا چاہتے ہو، تو اپنی زبان پر وہی باتیں لاؤ جن کے زبان پر لانے کا قرآن کریم نے ارشاد فرمایا ہے۔قرآن کریم ایسی باتوں سے جو زبان پر لانی