انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 429 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 429

۴۲۹ سورة بنى اسراءيل تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث مناسب ہیں ، بھرا پڑا ہے میں اس وقت ان کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ہاں مثال کے طور پر یہ ضرور بیان کروں گا کہ مثلاً قرآن کریم نے فرمایا ہے یا مُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ (ال عمران:۱۰۵) یعنی میرے بندے معروف کا حکم دیتے ہیں نیز قرآن کریم فرماتا ہے کہ میرے بندے قول صادق پر ہی نہیں قول سدید پر کار بند ہوتے ہیں اور اس قسم کی سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں باتیں قرآن کریم میں ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ کہتا ہے تم اس طرح کہو اور بہت سی ایسی باتیں بھی ہیں جن کے متعلق وہ کہتا ہے ایسا نہ کہو کیونکہ یہ باتیں شیطان اور اس کی ذریت ہی کہا کرتی ہے اللہ تعالیٰ کے بندے ایسی باتیں نہیں کہا کرتے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کے بعد ایک چھوٹے سے فقرہ میں نفی والے حصہ کو بڑے حسین پیرایہ میں بیان کر دیا ہے۔چنانچہ وہ فرماتا ہے۔إنَّ الشَّيْطَنَ يَنْزَعُ بَینھم ایک شیطان تو معروف ہستی ہے یعنی ایک نظر نہ آنے والا وجود جو دلوں میں وسوسہ پیدا کر کے انسانوں کو خدا سے دور لے جاتا ہے انہیں غیر اللہ کی طرف بلاتا ہے اور ایک قسم شیطان کی وہ ہے جس کی ذریت انسان کی شکل میں دنیا میں بستی ہے اور شیطان کے معنی ہیں حسد اور تعصب کی آگ میں جلنے والا اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ سے سرکشی کرنے والا۔اپنی حدود سے آگے بڑھ جانے والا اور اس طرح پر نہ صرف خود حق سے دور ہو جانے والا بلکہ لوگوں کو حق سے دور کرنے کی کوشش کرنے والا اور یہاں اللہ تعالیٰ اِنَّ الشَّيْطَنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ کہہ کر انسان کو ہدایت کرتا ہے کہ اس بات کا خیال رکھنا کہ ہمارا حکم ہے۔رورود قول احسن کہا کرو اس حکم کے راستہ میں کچھ وجود روک بننے کی کوشش کریں گے اور وہ اس طرح کہ وہ حسد یا تعصب سے کام لیتے ہوئے سرکشی عدم اطاعت اور بغاوت اختیار کریں گے اور حق سے دُور ہو جائیں گے، اور ساتھ ہی یہ کوشش بھی کریں گے کہ تم بھی حق سے دُور ہو جاؤ۔اس طرح ہمیں بتایا کہ جو قول حسد کی وجہ سے کہا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک احسن نہیں، اسی طرح وہ بات جو تعصب کی پیداوار ہو وہ بھی خدا تعالیٰ کی نظر میں احسن نہیں۔تعصب کے نتیجہ میں کہی جانے والی باتیں دو قسم کی ہوا کرتی ہیں کیونکہ تعصب بھی دو قسم کا ہوتا ہے ایک وہ تعصب ہوتا ہے جو دوسرے کے خلاف ہوتا ہے اور اس وقت انسان تعصب کے نتیجہ میں دروغ گوئی کر رہا ہوتا ہے۔دوسرے پر جھوٹا الزام لگا رہا