انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 427
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۲۷ سورة بنی اسراءیل دل سمجھے گا کہ جنت میرے قریب آگئی ہے۔میں اندھیروں میں بھٹکتا نہیں پھروں گا۔واضح راستے ہیں جو میرے سامنے رکھ دیئے گئے ہیں۔اگر میں ان پر چلوں تو میں اپنے رب سے امید رکھوں گا کہ وہ مجھے اپنی رضا کی جنت میں داخل کرے گا۔هُذَا مَا تُوعَدُونَ اس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔لیکل آؤ آپ اس شخص کے لئے وعدہ کیا گیا ہے جو بار بار اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور شریعت کا محافظ ہے۔شریعت کے ہر حکم کو بجالا نا ضروری سمجھتا ہے۔اور اس کو یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ میرا فرض ہے کہ میں اس بات کی حفاظت کروں کہ شریعت کا یہ حکم تو ڑ انہیں جاتا۔تو جب بندہ بار بار اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔استغفار کرتے ہوئے۔اپنی گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے۔اس کی رحمت پر کامل امید اور بھروسہ رکھتے ہوئے۔تو پھر خدائے تو اب اپنی صفت کا جلوہ دکھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ نور میں فرمایا۔وَ لَو لَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَ أَنَّ اللهَ تَوَابٌ حَكِيمُ (الثور : ۱۱) کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہو اور یہ حقیقت نہ ہو کہ خدا تعالیٰ رحیم ہونے کے باوجود، خدا تمہاری احتیاج نہ رکھنے کے باوجود، خدا احد ہونے کے باوجود یکتا اور منفردا اپنی ذات اور صفات میں ہونے کے باوجود یہ صفت بھی رکھتا ہے کہ وہ تو اب ہے۔اگر خدا تو اب نہ ہوتا اور حکیم نہ ہوتا اور فضلوں اور رحمتوں والا نہ ہوتا۔تو تم ہلاک ہو جاتے۔کیونکہ خالی او اب ہونا ضروری نہیں۔کوئی انسان ہے جو یہ دعوی کر سکتا ہے کہ اس کے عمل میں کوئی نقص نہیں اور اس کے اعتقادات اور روحانی تجربے جو ہیں یا جو جد و جہد ہے اس کے اندر کوئی فساد نہیں۔کوئی ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا اور محض او اب ہونا کافی نہیں جب تک ہمارا رب تو اب بھی نہ ہو۔وہ تو بہ قبول کرنے والا اور اپنی حکمت بالغہ سے بہت سے گناہوں کو معاف کرنے والا نہ ہو۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ حجرات میں فرمایا۔وَاتَّقُوا الله (الحجرات: (۱۳) کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر ڈر کے اپنی زندگی کے دن گزار و اگر تم ایسا کرو گے تو پھر ہم تمہیں یہ خوشخبری دیتے ہیں کہ جو کمزوریاں رہ جائیں گی۔ان کے باوجود اِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيمُ (الحجرات : ۱۳) خدا تعالیٰ تمہاری تو بہ کو قبول بھی کرے گا اور جو تم نے عمل کئے ہیں ان کا بدلہ اس فارمولے کے مطابق دے گا جو اس نے