انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 426 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 426

۴۲۶ سورة بنی اسراءيل تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث خوشخبری دیتا ہوں کہ اگر تم اپنی طرف سے صالح بننے کی کوشش کرو گے اور تمہاری نیت میں کوئی قصور نہیں ہو گا۔تم جان بوجھ کر معصیت میں گناہ میں مبتلا ہونے والے نہیں ہو گے۔تم جان بوجھ کر غلط اعتقاد رکھنے والے نہیں ہو گے۔گندی نیت نہیں ہوگی۔بشری کمزور یاں ہیں یا بعض اور کمزوریاں ہیں۔وہ تو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔لیکن اگر تم کوشش کرو گے کہ اعتقاد بھی تمہارا درست ہو اور تمہارے اعمال میں بھی کوئی فساد نہ ہو اور تم اپنے گنا ہوں سے تو بہ کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف بار بار آؤ گے۔اوّاب بنو گے تو یاد رکھو فَانهُ كَانَ لِلاَ وَّابِينَ غَفُورًا کہ جو خدا کا بندہ رب کی طرف بار بار رجوع کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ مغفرت کا سلوک کرتا ہے۔اسی طرح سورۃ ق میں فرمایا۔وَ اخْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ هُذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِ أَوَابِ حَفِيظ ( 3 : ۳۳،۳۲) کہ جنت جو ہے وہ متقیوں کے قریب کی گئی ہے۔اس کے ایک معنی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کئے ہیں تفسیر صغیر کے نیچے نوٹ میں کہ دین اسلام کی تعلیم کو اس طرح وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر آخری زمانہ میں بیان کر دیا جائے گا کہ انسان کا دل یہ محسوس کرے گا کہ راہیں روشن ہو گئیں۔ان کو اختیار کرنا میرے لئے آسان ہو گیا۔اس لئے جنت میرے قریب ہوگئی۔دوری صرف فاصلہ کی نہیں ہوتی۔دُوری جہالت کی بھی ہوتی ہے۔اگر ایک میل آپ نے جا نا ہو تو ایک فاصلہ ہے لیکن آپ کو راستہ نہ آتا ہو۔تو وہ ایک میل جو ہے ہیں میل بھی بن جاتا ہے۔ہیں میل کا چکر لگا کے۔کئی ڈرائیور ہیں جن کو راستہ نہیں آتا۔ہمارے ایک ڈرائیور جب بھی ہمارے ساتھ گئے ہیں پنڈی۔راستہ بھول جاتے ہیں جو بتانا پڑتا ہے۔ایک دن وہ کہنے لگے مجھے آتا ہے راستہ، آپ نہ بتا ئیں۔تو جس جگہ ہم نے جانا تھا۔وہ اس موڑ سے بمشکل پونے میں تھی میں نے کہا اچھی بات ہے۔ہم تمہیں نہیں بتاتے لے جاؤ انہوں نے کوئی سات آٹھ میل کا چکر دیا پھر وہاں پہنچے۔تو دوری اور بعد جو ہے وہ صرف فاصلے سے نہیں ہوتا بلکہ عدم علم اور جہالت کے نتیجہ پر بھی بعد پیدا ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ جنت کی راہوں کو اتنا روشن کر دیا جائے گا کہ مومن کا