انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 425 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 425

۴۲۵ سورة بني اسراءيل تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث دوسرے انسان سے ہوتا ہے یہ حکم لاگو ہو جاتا ہے کہ دکھ نہیں دینا کسی کوسکھ پہنچانا ہے ہمیشہ۔بتائیں یہ رہا ہوں کہ ہر حکم ہر وقت انسان پر لاگو نہیں ہوتا۔اسی لئے اعمالِ صالحہ کا یعنی با موقع اور مناسب حال کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔پھر بتایا کہ اعمال صالحہ بجالانے کی کوششوں میں تمہاری ایک بنیادی کوشش اور بھی ہونی چاہیے۔اس بنیادی کوشش کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اس آیت میں صالح کی تعریف کے طور پر ایک لفظ زائد استعمال کیا گیا ہے۔فرمایا فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا پہلے تو یہ کہا کہ اِنْ تَكُونُوا صِلِحِينَ یعنی یہ کہ اگر تم صالح ہو آیت کے اگلے حصہ میں صالح کے لفظ کو چھوڑ کر آؤآپ کا لفظ لیا گیا ہے تا کہ یہ بتایا جائے کہ صالح کے معنی میں خدا تعالیٰ کی طرف بار بار رجوع کرنے کی اہمیت کو بھی ذہن میں حاضر رکھنا ضروری ہے کیونکہ انسان جب کوئی عمل کرتا ہے، تو ضروری نہیں کہ وہ عمل مقبول بھی ہو۔ہزار گند ہیں جو ہمارے اعمال میں شامل ہو جاتے ہیں ہمیں ان کا علم بھی نہیں ہوتا لیکن رَبِّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نفوسلم ہمارے خدا تعالیٰ کو تو علم ہوتا ہے۔اسی لئے توجہ دلائی کہ بار بار اس کی طرف رجوع کرو تا کہ تمہارے خیال میں جو اعمالِ صالحہ ہیں وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بھی مقبول ہو جائیں یعنی اس کی نگاہ میں بھی وہ اعمال صالحہ قرار پائیں اور اس کے نتیجہ میں تمہیں رب کریم کی ربوبیت حاصل ہو اور ہر میدان میں تم اس کی رحمت کے سایہ تلے کامیابیوں کو اور اس کی رضا کو حاصل کرنے والے ہو۔(خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۱۹ تا ۶۲۲) ط اوّاب کے معنی ہیں وہ شخص جو اللہ کی طرف رجوع کرے گنا ہوں کو چھوڑتے ہوئے اور اس کے احکام کی بجا آوری کرتے ہوئے اور اس کی اطاعت کا جُوا اپنی گردن پر رکھتے ہوئے۔اللہ تعالیٰ سورۃ بنی اسرائیل میں فرماتا ہے۔ربكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِنْ تَكُونُوا صلِحِيْنَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا کہ تمہارا رب تمہارے اندرونوں کو ، تمہارے نفسوں کو جتنا جانتا ہے۔اتنا کوئی اور ہستی تمہارے نفسوں کو نہیں جانتی تم خود بھی بعض دفعہ اپنے نفس کو نہیں جانتے۔اس لئے ہے تو بڑے خطرہ کا مقام کہ کہیں کوئی چھپا ہوا شرک، کہیں کوئی چھپا ہوا گناہ ا کہیں کوئی چھپی ہوئی معصیت جس کو خود بندہ نہیں جانتا۔وہ اللہ تعالیٰ کو ناراض نہ کر دے اور نار جہنم میں پھینکنے کا باعث نہ بنے۔لیکن اس خطرہ کے باوجود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں